ٹیکہ اندازی کے 30 منٹ تک سخت نگرانی ، مراکز پر خصوصی انتظامات
حیدرآباد: تلنگانہ میں کورونا ویکسین کی ٹیکہ اندازی کیلئے حکومت کی جانب سے تیاریاں کی جارہی ہیں تو دوسری طرف ماہرین نے ویکسین کے مضر اثرات پر نظر رکھنے کی حکومت کو صلاح دی ہے ۔ طبی ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص کو ویکسین دیئے جانے کے 30 منٹ تک اس کی صحت پر نظر رکھی جانی چاہئے ۔ محکمہ صحت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکہ اندازی کے بعد ایک علحدہ کمرہ میں 30 منٹ کے لئے رکھتے ہوئے صحت میں امکانی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اگرچہ ویکسین کی ٹیکہ اندازی کا آغاز ہوچکا ہے اور بعض مقامات پر ویکسین کے ری ایکشن منظر عام پر آئے۔ محکمہ صحت کے حکام ویکسین کے کسی بھی مضر اثرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ عوام میں ویکسین کا ڈر اور خوف پیدا نہ ہو۔ مریضوں کی منتقلی کیلئے قریبی دواخانوں کو تیار رکھا جائے گا اور موبائیل ویانس کی خدمات حاصل کی جائیں گی ۔ ہر ضلع میں ٹیکہ اندازی کے انچارج عہدیداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ٹیکہ اندازی کے سلسلہ میں سخت چوکسی اختیار کریں اور عوام کی صحت کے بارے میں ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے۔ ٹیکہ اندازی کے مراکز پر کورونا قواعد کے مطابق انتظامات کئے جائیں گے ۔ انٹرنس میں سینیٹائزیشن کا انتظام رہے گا ۔ 6 فٹ کے فاصلہ سے نشستیں دستیاب رہیں گی۔ ٹیکہ اندازی کے کمرہ میں ایک وقت میں صرف ایک ہی شخص کو داخلہ کی اجازت رہے گی۔ ٹیکہ اندازی سنٹر میں ہیلت ورکرس کیلئے ٹیکہ کے تحفظ کے لئے کول اسٹوریج کے علاوہ میڈیکل ویسٹ کی نکاسی کے لئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔ توقع کی جارہی ہے کہ جنوری کے تیسرے ہفتہ تک کووڈ ویکسین عوام کیلئے دستیاب رہے گی۔
