کورونا ٹیکہ اندازی کیلئے تین کمروں کی عمارت درکار

,

   

Ferty9 Clinic

حکام نشاندہی اور انتخاب کیلئے کوشاں۔ ٹیکہ کے بعد آرام کی سہولت بھی ضروری
حیدرآباد۔کورونا ٹیکہ اندازی کیلئے تین کمروں کی عمارت کے حصول اور ان کی نشاندہی میں محکمہ صحت کے عہدیدار مصروف ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جن مقامات پر مراکز رائے دہی قائم تھے ان اسکولوں کو حاصل کرکے ٹیکہ اندازی کے انتظامات کئے جائیں۔ حکومت کی جانب سے جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہی ٹیکہ اندازی کا عمل شروع کیا جائے گا اور اس دوران ابتدائی مرحلہ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ کے علاوہ صفائی عملہ اور پولیس اہلکاروں کو ٹیکہ دیا جائیگا ۔ 10یوم میں پہلے مرحلہ کو مکمل کیا جائے گا۔ محکمہ صحت کے عہدیدارو ںنے بتایا کہ کورونا ٹیکہ اندازی کے اقدامات دیگر عام ٹیکہ اندازی کی طرح نہیں ہیں اور نہ آسانی سے ٹیکہ رکھا جاسکتا ہے بلکہ کورونا سے ٹیکہ کی حفاظت اور ٹیکہ سے استفادہ کرنے والوں کی تفصیلات کے حصول اور ان کو ٹیکہ دینے کے بعد کچھ دیر توقف کیلئے علحدہ جگہ کا انتظام ناگزیر ہے اسی لئے تین کمروں پر مشتمل عمارتوں کی تلاش جاری ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ٹیکہ کے حصول کیلئے پہنچنے والوں کو سب سے پہلے کوون ایپ میں تفصیلات کا اندراج کروانا ہوگا ۔ اندراج کے بعد دوسرے کمرے میں انہیں ٹیکہ دیا جائے گا اور تیسرے کمرہ میں ٹیکہ اندازی کے بعد کچھ دیر آرام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ محکمہ صحت نے اعلی عہدیدارو ں کو جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق شہری علاقوں میں تین کمروں پر مشتمل عمارتوں کی نشاندہی اور انتخاب میں دشواریوں کا سامنا نہیں ہے لیکن دیہی علاقوں اور گرام پنچایت میں انہیں ایسی عمارتوں کی تلاش میں دشواریاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت کے حکام کا اجلاس منعقد کرکے دونوں کے مابین تال میل کو بہتر بناتے ہوئے سرکاری اسکولوں میں ٹیکہ اندازی کے انتظامات پر غور کیا جا رہاہے ۔ اضلاع کی بلدیات سے بھی رائے لی جا رہی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ شہر کے علاوہ اضلاع میں ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں ٹیکہ اندازی کا انتظام کیا جائیگا لیکن اس کے علاوہ بھی ٹیکہ اندازی کیلئے دیگر مراکز کے قیام اور عملہ کی تربیت کے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔