کورونا ٹیکہ ‘ سپریم کورٹ کا فیصلہ

   

مرکے ٹوٹا ہے کبھی سلسلۂ قیدِ حیات؟
مگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے
کورونا وائرس کا جو بحران ساری دنیا میں تباہی کا باعث بنا تھا اس دوران حکومت کی جانب سے ٹیکہ اندازی پر خاص توجہ دیتے ہوئے اس کی کافی تشہیر بھی کی گئی تھی اور حکومت نے اس ٹیکہ اندازی کا سہرا بھی اپنے سر باندھنے سے گریز نہیں کیا تھا ۔ ہندوستان میں خاص طور پر کورونا ٹیکہ کی کافی تشہیر ہوئی تھی اور اسے حکومت کے ایک زبردست کارنامہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ تاہم بعد میں یہ پتہ چلا کہ کورونا بحران کے دوران جو ٹیکے دئے گئے تھے ان کی وجہ سے ٹیکہ لینے والوںکو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میںصحت کے دوسرے مسائل پیدا ہوئے تھے اور بعض معاملات میں تو ٹیکہ لینے والوں کی موت بھی واقع ہوگئی تھی ۔ حکومت نے تاہم ایسے کسی معاملے کو قبول نہیں کیا تھا اور ان کی تردید کی تھی ۔ اس صورتحال میں کچھ گوشوں سے عدالت کا راستہ اختیار کیا گیا ۔ کیرالا ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے کورونا ٹیکہ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر حکومت سے معاوضہ ادا کرنے کی استدعا کی گئی تھی ۔ کیرالا ہائیکورٹ نے 2022 میں فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی تھی کہ حکومت کورونا ٹیکہ کی وجہ سے مسائل کا شکار ہونے والے افراد کو معاوضہ ادا کرے ۔ مرکزی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس سارے معاملے میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے ۔ ملک کے عوام نے یہ ٹیکہ اپنی مرضی سے لگوایا تھا اور حکومت کی جانب سے عوام کو ٹیکہ لینے کیلئے مجبور نہیں کیا گیا تھا ۔ اس لئے حکومت اس سلسلہ میں معاوضہ ادا کرنے کی پابند نہیں ہوسکتی ۔ سپریم کورٹ نے تاہم واضح کردیا کہ حکومت کو کورونا ٹیکہ کی وجہ سے صحت کے مسائل کا شکار ہونے والے افراد اور اگر کسی کی موت واقع ہوئی ہے تو انہیں معاوضہ ادا کرنا چاہئے ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی وجہ سے کئی لوگوں کو راحت مل سکتی ہے ۔ موجودہ وقت میں غالب گمان یہی ہے کہ کورونا ٹیکہ کی وجہ سے کئی لوگوں کو صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور خاص طور پر نوجوانوں میں اس ٹیکہ کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے تھے ۔
حکومت کا یہ کہنا بھی مضحکہ خیز ہے کہ ٹیکہ لینے میں حکومت کا کوئی رول نہیں تھا اور عوام نے اپنی مرضی سے ٹیکہ لیا تھا اور حکومت نے انہیں ٹیکہ لینے کیلئے مجبور نہیں کیا تھا ۔ سارا ملک جانتا ہے کہ کس طرح سے مرکزی حکومت نے ٹیکہ اندازی کیلئے مہم چلائی تھی ۔ کس طرح سے بالواسطہ طور پر ہی صحیح عوام کو ٹیکہ لینے کیلئے مجبور کردیا گیا تھا ۔ بغیر کورونا ٹیکہ لئے کسی بھی طرح کا سفر ہی ممکن نہیں رہ گیا تھا ۔ فضائی سفر کیلئے ضروری تھا کہ ٹیکہ لیا جائے ۔ ٹرین کے سفر کیلئے بھی لازمی کردیا گیا تھا کہ ٹیکہ کا سرٹیفیکٹ دستیاب رہے ۔ دور فاصلے تک چلنے والی بسوں میں بھی کورونا ٹیکہ لینے کو لازمی کردیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ ماسک کے استعمال کو بھی لازمی کردیا گیا تھا ۔ سائنٹفک تحقیق سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جو ماسک استعمال کرنے کا لزوم عائد کیا گیا تھا وہ صرف فضائی آلودگی سے کسی حد تک بچنے میں معاون ہوسکتا ہے ۔ اس ماسک کے ذریعہ وائرس سے بچاؤ ممکن نہیں ہے ۔ سائسندانوں کا یہ کہنا تھا کہ وائرس کی جو جسامت ہوتی ہے وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے اور جو ماسک حکومت نے لازم کردیا تھا اس کے ذریعہ وائرس کی روک تھام ممکن نہیں ہے ۔ ٹیکہ اندازی کی جو مہم چلائی گئی تھی وہ ایسا لگتا تھا کہ حکومت اپنے ایک بڑے کارنامہ کے طور پر پیش کر رہی تھی اور یہ دعوی کیا جارہا تھا کہ مودی حکومت کی وجہ سے ہی عوام کو ٹیکہ دستیاب ہوا ہے اور یہ ایک طرح سے عوام پر حکومت کا احسان ہے ۔ اب حکومت نے ہی یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ٹیکہ عوام نے اپنی مرضی سے لگوایا تھا ۔
سپریم کورٹ نے تمام پہلووں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے کہ حکومت کو ان افراد کو معاوضہ ادا کرنا چاہئے جنہیں کورونا ٹیکہ کی وجہ سے مسائل لاحق ہوئے ہیں اور جن کی صحت متاثر ہوئی ہے ۔ حکومت کو اب سپریم کورٹ کی ہدایت اور فیصلے کے بعد کم از کم اس معاملے میں آگے آنا چاہئے اور معاوضہ کی ادائیگی کیلئے کوئی ضابطہ تیار کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے ۔ جو ٹیکے لگوائے گئے تھے ان کی بھی مکمل سائنٹفک جانچ ہونی چاہئے کہ کس وجہ سے عوام کو اس ٹیکہ کی وجہ سے صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ عدالتی فیصلے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتی ۔