وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کورونا کی امکانی تیسری لہر کے اندیشوں پر ریاستوں کے وزرائے اعلی کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا ۔ اجلاس میںوزیر اعظم نے جہاںصد فیصد ٹیکہ اندازی کو یقینی بنانے کی بات کی وہیں ہندوستان میں تیار ہونے والے ٹیکوں کو دنیا بھر میں قبولیت کی سند ملنے پر ستائش بھی کی ۔ وزیر اعظم نے اپنے اجلاس میں ایسا تاثر دیا ہے کہ کورونا سے نمٹنے میںمرکزی حکومت کا کوئی رول نہیں ہوگا اور جو کچھ بھی کرنا ہے مقامی سطح پر ریاستی حکومتوں ہی کو کرنا ہے ۔ وزیر اعظم نے مقامی سطح پر پابندیوں اور تحدیدات کے تعلق سے ریاستی حکومتوں کو فیصلہ کرنے کو کہا ہے اور کہا کہ اس بات کو بھی یقینی بناننے کی ضرورت ہے کہ لوگوں کا روزگار اور ذرائع آمدنی بھی متاثر ہونے نہ پائے ۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ملک میں یومیہ تقریبا دو لاکھ افراد کورونا سے متاثر ہو رہے ہیں ۔ حالانکہ اس بار متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن اموات کی شرح بہت کم ہے ۔ سابقہ دو لہروں میں یومیہ ہزاروں افراد اس وائرس کی وجہ سے اپنی زندگیاں گنوا رہے تھے ۔ لاکھوں افراد اس کی وجہ سے ملک میں فوت ہوئے ہیں۔ ملک نے انتہائی بے بسی کے ساتھ دیکھا کہ سابقہ دو لہروں میں کس طرح کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی ۔ لوگوں کو سانس لینے کیلئے آکسیجن تک دستیاب نہیں تھی ۔ دواخانوں میں مریضوں کو شریک کرنے تک کیلئے جدوجہد کرنا پڑ رہا تھا ۔ لوگ راستوں میں پڑے تھے اور ایک ایک سانس کے تک محتاج ہوگئے تھے ۔ ہندوستان کی غیر سرکاری تنظیموں اور فلاحی اداروں نے دو لہروں میں جس طرح کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں وہ قابل ستائش ہے ۔ ان کی وجہ سے صورتحال بے تحاشہ سنگین ہونے سے بچ گئی تھی ۔ پھر بھی ملک میں وہ مناظر دیکھنے میں آئے جو آزادی کے سات دہوں میں دیکھنے میں نہیں آئے تھے ۔ گنگا ندی میں نعشیں بہہ رہی تھیں۔ گنگا کے کنارے ریت میں نعشوں کو دفن کردیا گیا تھا جو بعد میں اوپر آگئیں۔ شمشان گھاٹوں میں آخری رسومات کیلئے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑ رہا تھا ۔ انتہائی افرا تفری کا ماحول تھا جو ملک میں کبھی دیکھا نہیں گیا تھا ۔
اب جبکہ تیسری لہر نے سر ابھارنا شروع کردیا ہے اور اومی کرون ویرینٹ کی وجہ سے یہ پھیلاؤ بہت تیزی سے ہو رہا ہے اور ماہرین کی جانب سے بھی خبردار کیا جا رہا ہے کہ حالات کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔ دواخانوں پر دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے اور وائرس کی علامات کو معمولی نہ سمجھا جائے ۔ اس صورتحال میں حکومتوں کی ساری کی ساری توجہ ٹیکہ اندازی پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ صد فیصد ٹیکہ اندازی کو یقینی بنانے کیلئے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ ٹیکہ اندازی کی اہمیت اپنی جگہ ضرور ہے اور اس پر خاص توجہ دی جانی چاہئے لیکن دواخانوں کو بھی آئندہ دنوں میں پیدا ہونے والی امکانی ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رکھنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہے ۔ آج وزیر اعظم کے جائزہ اجلاس میں بھی دواخانوں کی صورتحال پر غور نہیں کیا گیا ۔ یہ نہیں دیکھا گیا کہ آکسیجن کی سہولیات میں کس حد تک بہتری پیدا کی گئی ہے ۔ سابق کی بہ نسبت اب تک بستروں کی تعداد میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے یا نہیں ۔ ادویات کے ذخائر کس حد تک پورے کئے گئے ہیں۔ مختلف ریاستوں اور مرکزی حکومت کے مابین اس مسئلہ پر کیا کچھ تبادلہ خیال ہوا ہے ۔ کیا کچھ اشتراک کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں ہوئی ہے ۔ یہ بنیادی اقدامات ہیں اور ان پر بھی خاص توجہ کی ضرورت ہوگی کیونکہ جب وائرس شدت اختیار کرجائے تو صرف ٹیکہ اندازی پر اکتفاء نہیں کیا جاسکتا ۔ عوام کو اس وائرس سے صحتیابی کی طرف لانے پر بھی توجہ کرنی ہوگی۔
آج کے اجلاس میں خود وزیراعظم نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ توقع سے زیادہ تیز رفتار سے پھیل رہا ہے ۔ سبھی کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ یقینی طور پر چوکسی ضروری ہے اور ممکنہ حد تک احتیاط برت کر اس سے بچنے کی کوشش کی جانی چاہئے لیکن اگر خوانخواستہ اس وائرس نے بھی تیزی اور شدت اختیار کرتے ہوئے عوام کو دواخانوں سے رجوع ہونے پر مجبور کردیا تو کیا کچھ تیاری ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں کو بھی اس تعلق سے پوری تیاری کرنے کی ہدایت دینے کی ضرورت ہے اور مرکزی حکومت سے بھی کسی بھی وقت ہر ممکنہ مدد کی فراہمی کیلئے منصوبہ تیار رکھا جانا چاہئے ۔
