چہارشنبہ کوآرٹیکل 370 کی تنسیخ اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کی پہلی برسی، عوامی برہمی کو چھپانا اصل مقصد : التجا مفتی
سری نگر۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے بظاہر 5 اگست 2019 کے فیصلوں کی پہلی برسی کے پیش نظر وادی کشمیر میں جاری کورونا لاک ڈاؤن کو مزید سخت کردیا ہے تاہم سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافہ پابندیوں میں سختی کی بینادی وجہ ہے۔ بتادیں کہ پابندیوں کا سخت اطلاق پانچ اگست کی پہلی برسی سے دو روز قبل کیا جارہا ہے۔ادھر وادی میں پبلک ٹرانسپورٹ کورونا لاک ڈاؤن کا پہلا مرحلہ شروع ہونے سے ہی بند ہے تاہم نجی ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل جاری ہے۔نیوز ایجنسی یو این آئی کے ایک نامہ نگار نے سرینگر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ پابندیوں میں مزید سختی کی گئی ہے اور سڑکوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائین شہر کی اہم سڑکوں پر خار دار تار بچھا دی گئی ہے تاہم لوگوں کو پیدل چلنے پھرنے کی اجازدت دی جا رہی ہے۔ پائین شہر کے علاوہ بعض مضافاتی علاقوں بھی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔موصوف نے کہا کہ سیول لائنز میں تاریخی لاک چوک میں واقع گھنٹہ گھر کو سیل کیا گیا ہے اور اس کی طرف جانے والی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے لاک ڈاؤن کو مزید سخت کیا گیا ہے تاہم سرکاری ملازمین اور تعمیری کام پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ وادی کے اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان میں بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پیر کو سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمدورفت محدود کردی گئی جبکہ دکانداروں کو اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔دریں اثنا پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے وادی میں سیکورٹی کے انتظامات میں اضافے کے پیش نظر اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘وادی میں اچانک سخت حفاطتی انتظامات کیے گئے ہیں اس لئے نہیں کہ آنے والے دنوں میں کورونا وبا زیادہ تیز ہوگی بلکہ سیکورٹی اس لئے بڑھائی جارہی ہے کہ لوگوں کے غصے اور ناراضگی کو چھپائے رہنے کو یقینی بنایا جاسکے’۔قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے سال گزشتہ 5 اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی تنسیخ اور ریاست کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلے لئے تھے جس سے ایک روز قبل وادی میں نہ صرف تمام تر مواصلاتی خدمات معطل کر دی گئی تھیں بلکہ لوگوں کی نقل و حمل پر سخت پابندیاں تھیں۔