کورونا کا نیا خطرہ

   

Ferty9 Clinic

کورونا وائرس کا نیا خطرہ دنیا پر منڈلانے لگا ہے اور کہا یہ جا رہا ہے کہ جو نئی شکل کا وائرس عام ہوتا جا رہا ہے وہ سابقہ تمام وائرس سے زیادہ خطرناک ہے اور اس کے نتیجہ میں انسانوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ یہ وائرس جنوبی افریقہ سے دریافت ہوا ہے اور وہاں سے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنے لگا ہے ۔ ویسے بھی یوروپ کے مختلف ممالک میں بھی وائرس کی ایک نئی شکل نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے ۔ آسٹریا میں لاک ڈاون نافذ کردیا گیا ہے ۔ جرمنی ‘ اٹلی اور برطانیہ میں اس کا اثر بڑھتا جا رہا ہے ۔ عوام اس سے زیادہ تعداد میںمتاثر ہونے لگے ہیں اور اس کے نتیجہ میں لوگ زیادہ تعداد میں دواخانوں میں شریک ہو رہے ہیں۔ حالانکہ یوروپ میں اموات کی شرح میں اضافہ نہیںہوا ہے لیکن جنوبی افریقہ سے جو ویرئینٹ عام ہورہا ہے اس میںاموات کی شرح زیادہ ہوسکتی ہے ۔جنوبی افریقہ اور یوروپی ممالک میں نئی شکل کے وائرس کے بعد دنیا بھر میں سنسنی پیدا ہونے لگی ہے اور کئی ممالک نے چوکسی اختیار کرلی ہے ۔ ان میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ ہندوستان میں اس وائرس کا حالانکہ ابھی کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا ہے لیکن حکومتوں نے اس معاملے میں چوکسی اختیار کرلی ہے اور عوام کو بھی اس سے احتیاط برتنے کے مشورے دئے جانے لگے ہیں۔ کچھ مخصوص ممالک سے آنے والی پروازوں اور ان کے مسافرین کے تعلق سے بھی ائرپورٹس پر چوکسی برتنے کے احکام جاری کردئے گئے ہیں اور مسافرین کی اسکریننگ میں مزید تیزی پیدا کردی گئی ہے ۔ حالانکہ ابھی متاثرہ ممالک سے آنے والی پروازوں پر امتناع عائد نہیں کیا گیا ہے لیکن زیادہ چوکسی اختیار کرتے ہوئے اس وائرس کے ہندوستان میں داخلے کو روکنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ ابھی تک حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے ہیں ان پر ہی اکتفاء نہیں کیا جاسکتا ۔ حکومت کو اس معاملے میں مزید سخت ترین اقدامات کرنے ہونگے تاکہ ملک کے عوام کو اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ خود ملک کے عوام کو بھی اس معاملے میں احیتاط اور سخت چوکسی برتنے کی ضرورت ہے تبھی اس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔
وائرس کی اس نئی شکل کے خطرناک ہونے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ آج وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کی روک تھام کیلئے اقدامات پر غور و خوض کیا گیا ۔ ملک کی کچھ ریاستوں میں بھی ایسے ہی اجلاس منعقد ہوئے ہیں تاکہ اس وائرس کو روکنے کی حکمت عملی تیار کی جاسکے جبکہ کچھ ریاستوں میں آئندہ دنوں میں اجلاس ہونے والے ہیں ۔ حکومتوں کو اس معاملے میں کسی تغافل یا لاپرواہی کا مظاہرہ نہیںکرنا چاہئے ۔ جو کچھ ممکن ہوسکتے ہیں سخت ترین اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ احتیاط کے معاملے میں بھی موثر اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ احتیاط ہی کے ذریعہ اس طرح کے وائرس کو ابتدائی مراحل ہی میں پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے ۔ ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں جب کورونا وائرس کی ابتداء ہوئی تھی ہمارے ملک میں بیرونی ممالک سے آنے والی پروازوں پر امتناع عائد کرنے میں تاخیر سے کام لیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں ہندوستان بھر میں اس وائرس نے تباہی مچائی تھی ۔ ہم نے ایک نہیں بلکہ دو لہروں کی تباہی جھیلی ہے ۔ ہمارے لاکھوں شہری موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں اور کروڑہا افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس کے نتیجہ میں کئی خاندان تباہ ہوگئے ہیں۔ بے شمار گھر اجڑ گئے ہیں۔ لاکھوں کروڑوں زندگیاں اجیرن ہوگئی ہیں۔ بعض خاندان تو ایسے بھی ہیں جہاں ایک سے زائد اموات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔
یہ ساری کچھ تباہی دیکھنے کے بعد ہم مزید کسی طرح کے تغافل کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ ضرورت پڑنے سے جو متاثرہ ممالک ہیں یا جن کے تعلق سے معمولی سا بھی شبہ ہو ان سے آنے والی پروازوں پر امتناع عائد کیا جانا چاہئے ۔ ان ممالک سے آنے والے مسافرین کی نہ صرف مکمل جانچ ہونی چاہئے بلکہ ان پر بھی امتناع عائد کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ ہمارے لئے فضائی سفر یا مختلف ممالک سے آنے والی پروازوں سے زیادہ ہمارے اپنے ملک کے شہری اور عوام ہیں اور ان کے تحفظ اور سلامتی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ معمول کے مطابق یا محض ضابطہ کی تکمیل کی کارروائیاں اس وائرس کے پھیلاو کو روکنے میں موثر ثابت نہیں ہوسکتیں۔ اس معاملے میں حسب ضرورت سخت قدم اٹھانے چاہئیں۔
انتخابات اور ترقیاتی کام
آئندہ سال کے اوائل میں ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میںسب سے زیادہ اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش ہے جہاں بی جے پی اقتدار پر ہے ۔ پارٹی یہاں کسی بھی قیمت پر دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہر طرح کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے بطور خاص اترپردیش میں انتخابات کے وقت فرقہ وارانہ منافرت پھیلائی جاتی ہے اور اسی کا سہارا لیا جاتا ہے تاہم ترقیاتی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے بھی اب عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔ چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اور وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل ریاست میں نت نئے پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ ان پراجیکٹس کی فرضی تصاویر کی اشاعت کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے اور انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔ ساڑھے چار سال میں آدتیہ ناتھ حکومت نے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا صرف شہروں کے نام بدلے یا پھر فرقہ پرستی کو ہوا دی ۔ تاہم اب شائد بی جے پی کو بھی احساس ہونے لگا ہے کہ محض فرقہ پرستی کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے اسی لئے ترقیاتی پراجیکٹس کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔