کورونا کی اصل حقائق جاننے کی ضرورت:بائیڈن

   

Ferty9 Clinic

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے انٹیلی جنس اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرونا وائرس کے ماخذ کے بارے میں چھان بین کی کوششیں تیز کریں اور اس ضمن میں 90 روز کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کریں۔صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ کووڈ 19 وبا کی ابتدا کے اصل حقائق جاننے کی ضرورت ہے، خصوصی طور پر اس امکان سے متعلق حتمی رائے سامنے آنی چاہیے کہ آیا کرونا وائرس کی شروعات حادثاتی طور پر چینی لیباریٹری سے ہوئی؟صدر بائیڈن نے بدھ کو اپنے ایک بیان میں امریکی قومی لیباریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ اس تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کی مدد کریں اور چین سے مطالبہ کیا کہ اس چھان بین اور اسباب کے تعین میں امریکی حکام کے ساتھ تعاون کیا جائے۔بائیڈن انتظامیہ کئی ماہ سے اس امکان کو رد کرتی آئی ہے کہ کرونا وائرس کا آغاز چین کی لیباریٹری سے ہوا تھا۔ لیکن وبا کے پھیلاؤ کے اسباب جاننے کے لیے حال ہی میں امریکہ اور کئی ممالک کی جانب سے بیانات اور مطالبات سامنے آئے ہیں۔ بائیڈن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت کم ہی ہے کہ یہ وائرس انسانوں میں کسی جانور سے منتقل ہوا یا پھر حادثاتی طور پر کسی لیباریٹری سے انسانوں کو لگا۔