کورونا کی دوسری لہر سے تلنگانہ میں شادی بیاہ کی تقاریب متاثر

   

سینکڑوں شادیاں ملتوی، تین ماہ میں شادیوں کی بہتر تاریخیں، فنکشن ہال مالکین کا نقصان
حیدرآباد: کورونا وباء کی دوسری لہر میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک بھر میں شادی بیاہ کی تقاریب کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ دوسری لہر کے سبب ماہ مئی میں ہونے والی بیشتر شادیوں کو ملتوی کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ماہ شادیوں کے لئے خوش آئند تصور کئے جاتے ہیں ، ان تینوں مہینوں میں تقریباً 15 ایسی تاریخیں ہیں جن میں زیادہ تر شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں مئی اور جون کے دوران تمام فنکشن ہالس کی بکنگ مکمل ہوچکی ہے ، اس کے علاوہ جولائی کے دو ہفتوں بعد بھی تمام بڑے فنکشن ہالس شادیوں کیلئے بک ہیں۔ شادی کی تقاریب تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افرادکی ہیں لیکن ہندوؤں اور عیسائیوں میں دن اور تاریخ کے اعتبار سے شادی طئے کی جاتی ہے کیونکہ کئی تاریخوں کو خوشخبری لانے والے اور بعض دنوں کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اپریل کے اختتام کے ساتھ ہی کورونا کی دوسری لہر نے شدت اختیار کرلی جس کے نتیجہ میں مئی کی تمام شادیوں کو آگے کی تاریخوں کے لئے ملتوی کرنا پڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہندو عقیدہ کے مطابق مئی ، جون ، جولائی اور پھر نومبر اور ڈسمبر میں اچھی تاریخیں ہیں جبکہ اگست ، ستمبر اور اکتوبر میں شادیوں کے اہتمام سے گریز کیا جاتا ہے ۔ فنکشن ہالس کے مالکین شادیوں کے التواء سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے جون کی طئے شدہ تاریخوں کو بھی آگے کیلئے ملتوی کرنے کی خواہش کی ہے۔ شادی بیاہ کی تقاریب کے التواء کے نتیجہ میں ایک اندازہ کے مطابق گریٹر حیدرآباد کے حدود میں صرف دو ماہ میں 4000 سے زائد شادیاں ملتوی ہوچکی ہیں۔ بعض گھرانوں میں متبرک تاریخ کے اعتبار سے شادی کو گھریلو فنکشن میں تبدیل کرتے ہوئے شادی کی رسم مکمل کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ شادی بیاہ کی تقاریب گھروں تک محدود کی جارہی ہے تاکہ ملتوی کرنے کی نوبت نہ آئے۔ حیدرآباد اور سکندرآباد کے تمام بڑے فنکشن ہالس سنسان ہوچکے ہیں اور گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مالکین کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے شادی بیاہ میں 100 افراد کی شرکت کی شرط رکھی ہے لیکن عوام 100 افراد کے ساتھ بھی شادی کے اہتمام کیلئے تیار نہیں۔ حالیہ عرصہ میں شادی بیاہ کی تقاریب سے کورونا وائرس کے مہمانوں میں منتقل ہونے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں جس کے نتیجہ میں لوگ محدود تعداد کے ساتھ ہی فنکشن ہال میں شادی کے اہتمام کیلئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں شہر اور اضلاع میں شادی کی تقاریب میں شرکت کر نے والے کئی افراد کورونا سے فوت ہوئے اور کئی خاندان متاثر ہوئے۔