کورونا کی سنگینی کے باوجود مجالس مقامی کے انتخابات پر ہائی کورٹ برہم

   

اسٹیٹ الیکشن کمیشن کی رپورٹ غیر اطمینان بخش ، عوام کی زندگی سے بڑھکر الیکشن نہیں
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا کیسیس میں اضافہ کے باوجود مجالس مقامی کے انتخابات منعقدکرنے پر اسٹیٹ الیکشن کمیشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ عدالت نے اس معاملہ میں ریاستی الیکشن کمیشن کی پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ نے آج سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے رویہ پر ناراضگی جتائی ۔ عدالت نے سوال کیا کہ کورونا کی سنگین صورتحال کے باوجود انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ عوام کی زندگی سے زیادہ کیا الیکشن اہمیت رکھتا ہے ؟ جنگ ہوجائے یا پھر آسمان گر پڑے کیا الیکشن کرانا ضروری ہے ؟ چیف جسٹس ہیما کوہلی کی زیر قیادت بنچ کے سوالات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اطمینان بخش جواب نہیں دیا جاسکا۔ کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ انتخابات کا انعقاد ریاستی حکومت سے اتفاق رائے کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ فروری میں کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کے باوجود اپریل میں انتخابی اعلامیہ کیوں جاری کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں حکومت سے اجازت حاصل کرنے کی الیکشن کمیشن کو کیا ضرورت ہے۔ عدالت نے کمیشن سے سوال کیا کہ آیا انتخابات ملتوی کرنے کیلئے کمیشن کے پاس اختیارات نہیں ہیں؟ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کی وضاحت کو غیر اطمینان بخش قرار دیا اور کمیشن کے عہدیدار کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دی۔