ضلع نظام آباد میں برقراری امن کیلئے جدید ٹکنالوجی کا استعمال، بہتر کارکردگی پر عہدیداروں کو توصیف نامے
کاماریڈی : ایس پی کاماریڈی شویتا ریڈی نے آج پولیس ہیڈ کوارٹر پر سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ضلع میں امن و ضبط کی برقراری کیلئے پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ کرونا کے باوجود بھی پولیس اپنے فرائض کو انجام دینے میں پیچھے نہیں رہی ضلع میں تقریباً 2500 پولیس آفیسرس کرونا سے متاثر ہونے کے باوجود بھی پولیس عہدیدار اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی لاپرواہی نہیں کی ہے ۔ شویتا ریڈی نے کہا کہ سال گذشتہ سے اس سال چوری ، ڈاکہ زنی اور دیگر واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ سال 2020 ء میں جائیدادوں کیلئے 8 قتل کی وارداتیں ہوئی تھی اور ان تمام واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کرتے ہوئے سزاء دلائی گئی ۔ اسی طرح 28 قتل کی وارداتین پیش آئی ہے ان میں 16 مقدمات کی یکسوئی کی گئی ہے اور 57 واقعات خاندانی اختلافات کی بناء پر ہوئے ہیں ۔ ڈکیتی کے اس سال2019واقعات پیش آئے ہیں جبکہ سال 2019 ء میں 24 واقعات ہوئے تھے جملہ اس سال ڈکیتی ، چوری و دیگر 134 اور معمولی چوری کے واقعات 207 واقعات پیش آئے ہیں ۔ سال گذشتہ سے اس سال واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ جائیدادوں کیلئے ہوئے 203 کیسوں میں 153 افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور 29 افراد کو عدالت میں سزاء بھی سنائی گئی ۔ جرائم کی کمی کیلئے پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں اور چین چرانے کے 4 واقعات میں سے 3 واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ ضلع ایس پی نے کہا کہ خواتین سے متعلق دیگر واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔ گذشتہ سال 174 کیسس ہوئے تھے اس سال 136 ہوئے ہیں ۔ محفوظ کاماریڈی ( سرکشت کاماریڈی ) کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے اور خواتین و دیگر افراد میں شعور بیدار کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور دیہی سطح پر پولیس کی جانب سے گرام سبھا کے انعقاد عمل میں لاتے ہوئے شعور بیداری مہم کو انجام دی جارہی ہے ۔ شی ٹیم کی کارکردگی بھی بہتر ین رہی ہے سب ڈیویژن کے علاوہ دیگر مقامات پر سادہ لباس میں پولیس گھومتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے والوں پر نظر رکھی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سڑک حادثات میں کمی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کرتے ہوئے قومی شاہراہ پر جن مقامات پر حادثات پیش آرہے ہیں ان مقامات کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ ضلع کلکٹر کی نگرانی میں آراینڈ بی ، پنچایت راج عہدیداروں کے ہمراہ ان مقامات میں سڑک حادثات کی کمی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں اس سال سڑک حادثہ میں 2019 ء افراد کی موت واقع ہوئی ہے 553 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ سال 2019 ء کے مقابلہ میں کاماریڈی پولیس اسٹیشن کے علاقہ میں 50 فیصد سڑک حادثہ میں کمی ہوئی ہے ۔ خاص طور سے بھکنور کے علاقہ میں قابل لحاظ سڑک حادثات کے واقعات میں کمی ہوئی ہے اور عام طور پر سڑک حادثات میں بغیر ہیلمٹ کی وجہ سے گاڑی چلانے والے افراد کی موت واقع ہورہی ہے ۔ ضلع ایس پی نے کہا کہ اس سال خودکشی کے واقعات ضلع میں 323 واقعات ہوئے ان میں 18 سال سے کم عمر یافتہ اور 25 سال سے کم عمر یافتہ کے علاوہ دیگر بھی شامل ہے ۔ سی سی کیمرہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی سی کیمرہ کی وجہ سے جرائم میں کمی واقع ہوسکتی ہے جملہ 291 سی سی کیمرہ اس سال نصب کئے گئے ۔ کرونا کے باعث نشانہ کو پہنچ نہیں سکے اب تک 2345 کیمرہ نصب کئے گئے ہیں اور سی سی کیمروں کی مدد سے 43 کیسوں کی یکسوئی کرتے ہوئے 426500 روپیوں کے اثاثہ جات کو برآمد کیا گیا ہے انہوں نے سی سی کیمروں کے نصب میں تاڑوائی سب انسپکٹر کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ 18 گرام پنچایت اس پولیس اسٹیشن کے تحت اور 18 میں سی سی کیمرہ نصب کئے ہیں اور قبل از بھی انہوں نے ماچہ ریڈی پولیس اسٹیشن میں بھی سی سی کیمرہ کو نصب کیا تھا اسی طرح کاماریڈی سب انسپکٹر راجو 18 گرام پنچایتوں میں سے 15 گرام پنچایتوں میں سی سی کیمرہ نصب کیا ہے ۔ تاڑوائی اور مدنور پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں دو کیسوں میں دو افراد کو عمر قید کی سزاء ہوئی تھی تاڑوائی کے بالراجو 15 سالہ دختر کو خاندانی اختلافات کی بناء پر یکم ؍ جنوری میں قتل کیا تھا اسے عمر قید کی سزاء ہوئی ہے ۔ اسی طرح ملو نامی شخص مدنور کے علاقہ میں جائیداد کے خاطر اپنے بھائی یادو رائو کا قتل اس کے ساتھی لالو سے مل کر کلہاڑی سے قتل کیا تھا ان دونوں کو عمر قید کی سزاء ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں امن و ضبط کی برقراری کیلئے پولیس کی جانب سے جدید ٹکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہا ہے اور 30 افراد کو حیدرآباد میں تربیت بھی دی گئی ہے ۔ ورٹیکل ٹریننگ بھی دی گئی ہے بہترین کارکردگی دکھانے والے پولیس عہدیداروں کو توصیف نامہ بھی عطاء کیا اور ڈرنک اینڈ ڈرائیو کے کیسوں میں بھی جرمانے عائد کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے 45 عہدیداروں کیخلاف تادیبی کارروائی بھی کی گئی ۔ ضلع میں رشوت ستانی کے کیسوں میں اضافہ اور کاماریڈی ضلع کے دو سرکل انسپکٹر س کی گرفتاری پر کہا کہ پولیس کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرنے کیلئے 45 عہدیداروں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے ۔
