فینانس ، اقلیتی بہبود اور دیگرمحکمہ جات میںملازمین وائرس سے متاثر، عہدیدار گھروں تک محدود
حیدرآباد۔سرکاری دفاتر میں کورونا پازیٹیو کیسس میں اضافہ کے خوف نے تلنگانہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو دفاتر کے بجائے گھروں سے کام کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کی عارضی سکریٹریٹ عمارت بی آر کے بھون ان دنوں کورونا کے خوف سے سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ اس عمارت میں تقریبا ہر منزل پر مختلف سرکاری محکمہ جات میں عہدیداروں اور ملازمین میں کورونا کی علامات پائی گئی تھیں جس کے بعد سے خوف کا ماحول ہے۔ اگرچہ چیف سکریٹری سومیش کمار اسی عمارت سے اپنی کارکردگی جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن دیگر محکمہ جات کے عہدیدار دفاتر آنے سے گریز کررہے ہیں۔ صرف ضروری اسٹاف عمارت میں دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ملازمین نے کورونا کے خوف سے رخصت حاصل کرلی ہے۔ کورونا کے خوف نے بیشتر محکمہ جات کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔ مختلف ڈائرکٹوریٹس اور کمشنریٹس میں اعلیٰ عہدیدار اپنی قیامگاہوں کو فائیلس طلب کرتے ہوئے یکسوئی کررہے ہیں۔ چیف منسٹر آفس سے آنے والی فائیلوں کی یکسوئی کی جارہی ہے۔ ہر کسی میں کورونا کا خوف اس قدر ہے کہ اگر کسی ملازم میں بخار اور کھانسی پائی جائے تو اسے فوری ہوم کورنٹائن کا مشورہ دیا جارہا ہے حالانکہ ہر کھانسی اور بخار کورونا نہیں ہوتا۔ محکمہ صحت میں 260 سے زائد ملازمین کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر کے بھون میں محکمہ جات فینانس، ہیلت ، امداد باہمی اور اقلیتی بہبود کے دفاتر میں کورونا پازیٹیو کیسس پائے گئے۔ حال ہی میں بورڈ آف انٹر میڈیٹ میں 12 ملازمین کورونا سے متاثر ہوئے جبکہ ڈائرکٹوریٹ اسکول ایجوکیشن کے6 ملازمین میں کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ رنگاریڈی ضلع کلکٹریٹ کے 21 ملازمین متاثر ہوئے اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹیڈ کے 6 ملازمین کو کورونا نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ سرکاری محکمہ جات میں کیسس کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے آفس سب آرڈینیٹس، ڈیٹا انٹری آپریٹرس اور سیکوریٹی اسٹاف کو ہفتہ واری بنیادوں پر خدمات انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایک ہفتہ ڈیوٹی کرتے ہوئے دوسرے ہفتہ آرام کریں گے جبکہ دیگر عہدیداروں اور کلرکس کو ایک دن کے وقفہ سے ڈیوٹی انجام دینے کی اجازت دی گئی۔