کورونا کے علاج کیلئے پریشان حال خاندان مقروض، عوامی عطیات وصول کرنے پر مجبور

   

روزانہ لاکھوں روپئے کے چارجس، دنیا بھر سے کئی خاندانوں کی مدد

حیدرآباد۔ کورونا کے علاج کیلئے خانگی دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ نے غریب و متوسط طبقات کو نہ صرف مقروض کردیا ہے بلکہ کئی خاندان ایسے ہیں جو اپنے اثاثہ جات فروخت کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ خانگی دواخانوں میں کورونا کے علاج کے سلسلہ میں ہر مریض کو بستر فراہم کرنے کے حکومت کی ہدایات کے باوجود کارپوریٹ ہاسپٹلس صرف ایسے مریضوں کو شریک کررہے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق بھاری رقومات ادا کرسکتے ہیں۔ مریضوں کے رشتہ داروں سے پہلے زبانی معاہدہ طئے کرتے ہوئے کورونا کے مریض کو بستر فراہم کیا جارہا ہے۔ بڑے دواخانوں میں روزانہ 2 تا 5 لاکھ روپئے چارج کئے جارہے ہیں ان میں زیادہ تر رقم انجکشن کے معاوضہ کے طور پر دکھائی جاتی ہے۔ غریب اور متوسط طبقات سرکاری دواخانوں تک محدود ہوچکے ہیں وہاں بھی انہیں اپنے قریبی افراد کے علاج کیلئے رقومات کی ضرورت ہے۔ قرض حاصل کرنے اور اثاثہ جات کی فروخت کے باوجود بھی رقم کی ضرورت کے پیش نظر کئی افراد نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ عطیات کی وصولی کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی ایسے معاملات منظر عام پر آئے جہاں سوشیل میڈیا ویب سائیٹس کے ذریعہ علاج کیلئے تعاون کی اپیل کی گئی اور مریضوں کے حق میں دنیا بھر سے کئی لاکھ روپئے جمع ہوئے ہیں۔ بی ایس این ایل کے ایک ریٹائرڈ ملازم کے فرزند نے بتایا کہ ان کے والد وینٹی لیٹر پر ہیں اور خاندان کے پاس علاج کیلئے رقم ختم ہوچکی ہے۔ ارکان خاندان نے اب تک تقریباً 20 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیں پھر بھی والد وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہیں۔ اس خاندان نے سوشیل میڈیا ویب سائیٹ کے ذریعہ تعاون کی اپیل کی جس پر بتایا جاتا ہے کہ انہیں کئی لاکھ روپئے حاصل ہوئے۔ انشورنس اسکیم اور آروگیہ سری اسکیم سے استفادہ کے باوجود وہ علاج کے اخراجات کی تکمیل نہیں کرسکے۔ ایک اور مریض کی اہلیہ نے اپنے شوہر کے علاج کیلئے ویب سائیٹ کے ذریعہ عوام سے اپیل کی جس کے نتیجہ میں دنیا بھر سے تقریباً 20 لاکھ روپئے کے عطیات وصول ہوئے ہیں۔ کورونا کے علاج میں بھاری رقم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دنیا بھر سے اہل خیر افراد پریشان حال مریضوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کررہے ہیں۔