کورونا کے قہر کے باوجود حیدرآباد کے پارکس کھلے ہیں

   

تاحال 20 سیکوریٹی عملہ کورونا سے متاثر ایک فوت پھر بھی بند نہیں کیے گئے
حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میں کورونا کی دوسری لہر قہر ڈھا رہی ہے ۔ گذشتہ 15 دن سے جی ایچ ایم سی کے حدود میں 1000 سے زائد کیسیس درج ہورہے ہیں ۔ باوجود اس کے شہر کے پارکس کو بند نہ کرنے کی وجہ سے تشویش پائی جارہی ہے ۔ پارکس میں عوام کے داخل ہونے پر چیکنگ کرنے والے 20 سیکوریٹی کورونا کا شکار ہوگیا اور ایک کی موت بھی واقع ہوگئی ہے ۔ باوجود اس کے حسین ساگر کے قریب لمبنی پارک ، نکلس روڈ ، ٹینک بینڈ ، این ٹی آر گارڈن ، سنجیویا پارک کو ہنوز بند نہیں کیا گیا جہاں تعطیلات کے دوران عوام کی کثیر تعداد پہونچ رہی ہے ۔ گذشتہ سال کورونا کی پہلی لہر کے دوران ان پارکس کو 6 ماہ تک بند کردیا گیا تھا ۔ ملک بھر میں قومی پارکس کو بند کردیا گیا ہے ۔ حیدرآباد کے نہرو زوالوجیکل پارک کو 2 مئی سے بند کردیا گیا ۔ 8 ببر شیر کورونا سے متاثر ہونے کے بعد عوام کے داخلہ کو روک دیا گیا ہے ۔ حسین ساگر کے اطراف و اکناف پائے جانے والے پارکس میں ہاوس کیپنگ ورکرس ، سیکوریٹی گارڈس وغیرہ جملہ 300 سے زائد افراد خدمات انجام دیتے ہیں ۔ گرمائی تعطیلات ہونے کی وجہ سے شام کے اوقات میں بڑے پیمانے پر لوگ لمبنی پارک ، سنجیوا پارک ، این ٹی آر گارڈن پہونچ رہے ہیں ۔ ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے کورونا کے پیش نظر 50 فیصد عملہ سے کام لیا جارہا ہے ۔ ایک دن کے وقفہ سے ملازمین کو کام پر بلایا جارہا ہے ۔ مگر پارکس میں کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ مرکزی محکمہ ماحولیات کے احکامات کے پیش نظر حیدرآباد کے پارکس کو بھی بند کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔۔