کولمبو میں غذائی اشیاء ستمبر میں ختم ہوجانے کا اندیشہ :میئرنائیکے

   

کولمبو: کولمبو کو سری لنکا کے معاشی بحران کے پیش نظر اس سال ستمبر تک خوراک کی قلت کا انتباہ دیتے ہوئے میئر روزی سینانائیکے نے کہا کہ کولمبو سٹی کونسل جلد ہی شہر کے اندر 600 ایکڑ اراضی میں ضروری غذائی فصلیں اگانے کا آغاز کرے گی۔‘ڈیلی مرر’ نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں مسز سینانائیکے کے حوالے سے کہا کہ شہری ادارہ فصل اگانے کے لیے ایک زرعی منصوبہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ اس کے تحت شہر کے مکینوں کو اپنے گھر کے باغات میں ضروری غذائی فصلیں اگانے کی ترغیب دی جائے گی۔انہوں نے کہا، ‘‘کولمبو کی 60 فیصد آبادی (جو کم آمدنی والے ہیں) خوراک کی کمی سے متاثر ہوں گی۔ میں کسی کو ڈرانے کا ارادہ نہیں رکھتی، لیکن میں صرف لوگوں کو آنے والے بحران کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہوں اور انہیں اس سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا چاہتی ہوں’’۔انہوں نے کہا کہ شہر کے اندر سوپ کچن کھولنے اور کم آمدنی والے افراد کو 3000 روپے کے کیش واؤچر فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ورلڈ فوڈ پروگرام اور دیگر ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ شہر کے باسیوں کی خوراک کو یقینی بنایا جا سکے ۔میئر نے کہا کہ کولمبو شہر میں روزانہ تقریباً 350 ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسے کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس سے شہر میں خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مدد ملے ۔قابل ذکر ہے کہ سری لنکا کو اب تک کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے ۔ خوراک، ایندھن اور ادویات کی بڑے پیمانے پر قلت ہے ۔ وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے گزشتہ ماہ حکومت کے خلاف عوامی غصے اور پرتشدد مظاہروں کے درمیان اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
لیکن کئی ہفتوں تک ان میں بعض علامتیں پائی جارہی ہیں ۔