4 نشستوں پرکانگریس اور ایک پر بی آر ایس کی کامیابی کا امکان، سی پی آئی اور مجلس کی بھی ایک ‘ ایک نشست پر نظر، ہائی کمان سماجی انصاف کے حق میں
حیدرآباد۔/19 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں آئندہ ماہ قانون ساز کونسل کی 5 نشستوں کیلئے انتخابات مقرر ہیں ایسے میں برسراقتدار کانگریس پارٹی اور اپوزیشن بی آر ایس میں کونسل کی نشستوں کے خواہشمندوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ایم ایل اے کوٹہ کی 5 نشستوں کے موجودہ ارکان کی میعاد آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے اور توقع ہے کہ الیکشن کمیشن گریجویٹ اور ٹیچرس زمرہ کی 3 نشستوں کا چناوی عمل مکمل ہوتے ہی مارچ کے پہلے ہفتہ میں اعلامیہ جاری کردے گا۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس کو 4 اور بی آر ایس کو ایم ایل سی کی ایک نشست حاصل ہوسکتی ہے۔ کانگریس پارٹی میں کونسل کی 4 نشستوں کیلئے کئی دعویدار ہیں جن میں زیادہ تر وہ قائدین ہیں جو اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں پارٹی ٹکٹ سے محروم رہے۔ ٹکٹ سے محرومی کے وقت کانگریس ہائی کمان نے بعض قائدین سے کونسل کی نشست کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے علاوہ پارٹی میں گذشتہ 10 برسوں سے کسی عہدہ کے بغیر خدمات انجام دینے والے نوجوان قائدین نے بھی ایم ایل سی نشستوں کیلئے نئی دہلی پہنچ کر نمائندگی کا آغاز کردیا ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ میں شکست خوردہ بعض قائدین بھی ایم ایل سی نشست کے متمنی ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے ایم ایل سی نشستوں پر سماجی انصاف کے مطابق امیدواروں کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کمزور طبقات کو موثر نمائندگی حاصل ہو۔ باوثوق ذرائع کے مطابق راہول گاندھی اور کے سی وینو گوپال نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں کے مسئلہ پر عجلت میں فیصلہ کے بجائے سماجی انصاف اور پارٹی کیلئے خدمات کو پیش نظر رکھیں۔ ہائی کمان کا نظریہ نوجوان قائدین کو موقع دیئے جانے کے حق میں ہے۔ جن چار ارکان کونسل کی میعاد آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے ان میں محمد محمود علی، ستیہ وتی راتھوڑ، ایس سبھاش ریڈی اور وائی ملیشم شامل ہیں اور یہ تمام بی آر ایس سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجلس کے ریاض الحسن آفندی کی میعاد بھی 29 مارچ کو دیگر ارکان کے ساتھ ختم ہورہی ہے۔ کانگریس پارٹی میں اس بات کو لیکر بحث جاری ہے کہ آیا مجلس کو کونسل کی نشست الاٹ کی جائے گی یا نہیں۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد مجلس نے کانگریس سے دوستی کی اور محض ایک سال کی دوستی میں کونسل کی ایک نشست الاٹ کرنا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی حلیف سی پی آئی کی بھی کونسل کی ایک نشست پر نظر ہے۔ اسمبلی انتخابات کے موقع پر کانگریس نے سی پی آئی کو ایم ایل سی کی 2 نشستوں کا وعدہ کیا تھا اور تاحال ایک بھی نشست نہیں دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق سی پی آئی کے سابق سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی اور سنئر لیڈر پی وینکٹ ریڈی کے نام زیر غور ہیں جنہیں کانگریس ہائی کمان کو پیش کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ سی پی آئی یا مجلس کو کونسل کی ایک نشست کے الاٹمنٹ کا قطعی فیصلہ کانگریس ہائی کمان کرے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی 4 نشستوں میں بی سی، ریڈی، ایس ٹی اور مسلم کو نمائندگی دینے کے حق میں ہیں۔ پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد پہلی مرتبہ ایم ایل اے کوٹہ کی 5 نشستیں خالی ہورہی ہیں جن میں سے 4 پر کانگریس کی کامیابی یقینی ہے۔ ایم ایل سی نشستوں کے کانگریس میں اہم دعویداروں میں ادنکی دیاکر، ایس رام موہن ریڈی، جیون ریڈی، راملو نائیک، شیوا سینا ریڈی اور دوسرے شامل ہیں۔ مہیلا کانگریس کی ریاستی صدر سنیتا راؤ اور بعض سابق خاتون ارکان اسمبلی بھی ایم ایل سی نشست کیلئے دہلی کی سطح پر پیروی میں مصروف ہیں۔1