کوویڈ اور ویکسینیشن کی صورتحال نہایت متغیر۔ ورکنگ گروپ کا بیان
نئی دہلی : ہندوستان کووی شیلڈ ویکسین کے ڈوز کے درمیانی وقفہ پر نظرثانی کرے گا اور مسلسل ابھرتے ڈیٹا کی بنیاد پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا، ٹیکہ اندازی سے متعلق اڈوائزری باڈی این ٹی اے جی آئی کے ورکنگ گروپ کے صدرنشین این کے اروڑا نے یہ بات کہی۔ انہوں نے آج ایک بیان میں کوویڈ۔19 اور ویکسینیشن کی صورتحال کو نہایت متغیر بتایا اور کہا کہ وقفہ وقفہ سے وصول ہونے والے ڈیٹا اور مختلف رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے کئے جارہے ہیں۔ جزوی ٹیکہ اندازی اور اس کے مطابق مکمل ویکسینیشن کے اثر کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ کووی شیلڈ کے دو ڈوز کے درمیان وقفہ کو 4 تا 6 ہفتہ سے بڑھا کر 12 تا 16 ہفتے کردینے کے فیصلے کے تعلق سے اروڑا نے کہا کہ یہ اقدام سائنسی فیصلہ پر مبنی ہے اور نیشنل ٹیکنیکل اڈوائزری گروپ آن امیونائزیشن کے اراکان کے مابین کوئی اختلاف رائے نہیں پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا اور متعلقہ ٹیکہ اندازی نہایت تغیر والے معاملے ہیں۔ کل اگر ویکسین پلیٹ فام ہمیں بتاتا ہیکہ کم تر وقفہ ہمارے عوام کیلئے بہتر ہے چاہے فائدہ 5 تا 10 فیصد کیوں نہ ہو تو ہماری کمیٹی محاسن اور سوجھ بوجھ کی اساس پر فیصلہ کرے گی۔ دوسری طرف اگر یہ معلوم ہوتا ہیکہ موجودہ فیصلہ درست ہے تو ہم اسی کو جاری رکھیں گے۔ مرکزی وزارت صحت نے اروڑا کے علاوہ سے ڈی ڈی نیوز کو بتایا کہ دونوں ڈوز کے درمیان وقفہ کو بڑھانے کا فیصلہ بنیادی سائنسی وجوہات کی بنا کیا گیا ہے۔