کوٹہ میں حکومت راہول کے پوسٹرس ہٹوارہی ہے

,

   

حکومت اپنی پوری توانائی جھونک رہی ہے ، کانگریس ترجمان راگنی نائک کی پریس کانفرنس

نئی دہلی، 17 جون (یو این آئی) کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پارٹی کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے مجوزہ کوٹہ پروگرام سے گھبرا گئی ہے اور انتظامیہ کے ذریعے پروگرام کے پوسٹر ہٹوا رہی ہے ۔کانگریس کی ترجمان محترمہ راگنی نائک نے چہارشنبہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راجستھان حکومت طالب علموں کی آواز کو دبانے کے لیے اقتدار کی پوری طاقت جھونک رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کوٹہ میں راہول گاندھی کے پروگرام کے پوسٹر لگائے جا رہے ہیں تو پیچھے سے انتظامیہ کے لوگ آکر ان کو ہٹوا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پریس کانفرنس میں ایک ویڈیو بھی دکھایا جس میں مسٹر گاندھی کے پروگرام سے متعلق پوسٹروں کو ہٹایا جا رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے واضح ہے کہ حکومت کی بے چینی صاف دکھائی دے رہی ہے ۔محترمہ نائک نے کہا کہ بی جے پی کتنی بھی کوشش کر لے ، وہ راہول گاندھی اور طالب علموں کو نہیں روک پائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالب علم اور نوجوان خود راہل گاندھی سے ملنے آ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت ان کے پروگرام سے پریشان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر گاندھی سے مودی حکومت پہلے سے ہی گھبراتی ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ پہلے بھی اس حکومت نے راہل گاندھی کو ہاتھرس، سنبھل، لکھیم پور کھیری، بہار میں امبیڈکر ہاسٹل اور منی پور تشدد کے متاثرین سے ملنے سے روکنے کی کوشش کی ہے ، لیکن ہر بار اسے منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی حکومت نے راہل گاندھی اور کانگریس کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی ہے ، تب تب اسے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔کانگریس ترجمان نے الزام لگایا کہ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) اور انڈین یوتھ کانگریس کی جانب سے پیپر لیک اور سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے او ایس ایم امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ملک بھر میں 50 سے زیادہ مظاہرے کیے گئے ، جن پر حکومت نے پولیس فورس کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر نوجوانوں کے مسائل کو اٹھایا اور طالب علموں کے وفود سے بات چیت کر کے ان کے خدشات کو سنا۔محترمہ نائک نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیر اعظم نے اس پورے معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے ، جبکہ اکھل بھارتیہ ودیا رتھی پریشد (اے بی وی پی) اور بھارتیہ جنتا یووا مورچہ بھی نوجوانوں کے مسائل پر خاموش رہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اور وزیر تعلیم نے ملک کے نوجوانوں کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔