مقامی افراد کی مفاد عامہ کی درخواست پر کارروائی
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے کوکٹ پلی کے علاقہ میں واقع ایک جھیل کو خوبصورت بنانے کے کام پر چار ہفتوں کیلئے حکم التواء میں توسیع کردی ہے۔ حکام کو ہدایت دی گئی کہ 4 ہفتوں تک جوں کا توں موقف برقرار رکھا جائے۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی نے کوکٹ پلی ایریا ڈیولپمنٹ سوسائٹی کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔ سوسائٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکومت کے اقدام سے رئیل اسٹیٹ تاجرین کو تعمیر کا موقع فراہم ہوگا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مختلف ڈیولپرس جھیل کی اراضی پر قبضہ کی مساعی کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے بلڈرس کو یہ کام تفویض کیا ہے جو مقامی افراد کے لئے تکلیف کا باعث ہے۔ بنچ نے بلڈر کو کسی بھی معاہدہ سے روکتے ہوئے ریونیو ، اریگیشن اور جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں کو اراضی کے تحفظ کی ہدایت دی۔ درخواست گزاروں نے شکایت کی کہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ تاجروں کی جانب سے مکانات کو منہدم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کی سماعت کرنے والے سنگل بنچ سے رجوع ہوکر تفصیلات سے واقف کرائیں۔