حکومت کی مراعات کی عدم فراہمی پر غم و غصہ کا اظہار
کوہیر۔ کوہیر منڈل مستقر اور اطراف کے سینکڑوں کی تعداد میں کسانوں نے کوہیر منڈل تحصیل آفس پراحتجاج کرتے ہوئے ایک یادداشت حوالے کرتے ہوئے کسانوں کو رعیتو بندھو اور رعیتو بیمہ کے علاوہ حکومت کی جانب سے جاری مراعات دینے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں کسانوں نے بتایا کہ کوہیر منڈل میں 5 ہزار ایکر سے زائد جس میں صرف کوہیر مستقر میں 2 ہزار 8 سو ایکر اراضی وقف گزٹ میں ہونے کا وقف بورڈ نے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے جس کی وجہ سے ان اراضیات کے کسانوں کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات حاصل نہیں ہورہی ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد سے آج تک مذکورہ اراضیات کی خرید و فروخت ہوتی چلی آرہی ہے۔ یہاں پر کئی کسان آئے اور چلے گئے لیکن 2018 میں ان اراضیات کو وقف گزٹ کی نذر کردیا گیا جس سے کئی کسان دلبرداشتہ ہوکر انتقال کرگئے۔ اس موقع پر محمد عقیل احمد، محمد فردوس، گنیش ریڈی ان اراضیات کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے اور ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے حکومت کی مراعات کسانوں کو دینے کی خواہش کی جس پر عدالت نے متعلقہ عہدیدار کو ہدایت دی ہے کہ کسانوں کو رعیتو بندھو، رعیتو بیمہ اور دیگر سرکاری مراعات جاری کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کی نقل احتجاجی کسانوں کے پاس موجود ہے لیکن سرکاری عہدیدار اس معاملہ میں کوئی بھی عملی اقدامات انجام نہیں دے رہے ہیں اس کے خلاف کسانوں میں زبردست غم و غصہ دیکھا گیا۔ اس موقع پر محمد جلیل احمد آتما کمیٹی ڈائرکٹر، محمد ضیاء الدین ، سائیلو ناگی ریڈی پلی، دسرتھ ریڈی، محمد اظہر الدین، اسلم زائد، کرن یادو، سنگیشور ڈائرکٹر بچارا گڑ سوسائٹی کے علاوہ کسانوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔
