انہیں ستمبر 2025 میں بی آر ایس سے معطل کر دیا گیا تھا۔
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین گٹھا سکھیندر ریڈی نے کونسل کی رکنیت سے معطل بی آر ایس ایم ایل سی کے کویتا کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے۔
کونسل سکریٹری نے منگل کو دیر گئے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا کہ کویتا کا استعفیٰ چیئرمین نے 6 جنوری سے قبول کر لیا ہے۔
کویتا 2021 میں نظام آباد لوکل اتھارٹیز کے حلقہ سے ایل سی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔
انہوں نے گزشتہ سال 3 ستمبر کو ایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔
5 جنوری کو کونسل میں خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے چیئرمین پر زور دیا کہ وہ ان کا استعفیٰ قبول کریں۔
اپنی تقریر کے دوران، کویتا نے اپنے والد کے چندر شیکھر راؤ کی زیرقیادت پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے تلنگانہ میں سابقہ پارٹی حکومت کے دوران بدعنوانی کا الزام لگایا اور بی آر ایس کے آئین کو ایک “مذاق” بھی قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بی آر ایس کی حکمرانی کے دوران بعض “غیر مقبول” فیصلوں کی فریق نہیں تھیں۔
کویتا کو ستمبر 2025 میں بی آر ایس سے اس وقت معطل کردیا گیا تھا جب اس نے اپنے کزن اور پارٹی قائدین ٹی ہریش راؤ اور جے سنتوش کمار پر بی آر ایس کے دور حکومت میں بنائے گئے کالیشورم لفٹ ایریگیشن پراجکٹ پر اپنے والد کے سی آر کی شبیہ کو “داغدار” کرنے کا الزام لگایا تھا۔
اپنی معطلی کے بعد سے، وہ تلنگانہ جاگرتی کے بینر تلے عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، ایک ثقافتی تنظیم جس کی وہ سربراہ ہیں۔
کویتا نے گزشتہ سال دسمبر میں بھی اعلان کیا تھا کہ ان کے سیاسی پلیٹ فارم سے ریاست میں اگلے اسمبلی انتخابات لڑیں گے۔
