کھانسی، بخار، سردردیا نزلہ پر کورونا مریض ہونا ضروری نہیں

,

   

موسمی امراض سے موجودہ وبائی ماحول کے سبب خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط درکار۔موسم کی تبدیلی پر صحت میں فرق کا فوری علاج کرانے ماہر اطباء کی تاکید

حیدرآباد: شہر حیدرآباد میں وبائی بخار ‘ کھانسی ‘ سردی اور سردرد کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور طبی ماہرین کا کہناہے کہ اس طرح کے موسم میں وبائی بخار اور یہ شکایات معمول کی بات ہیں لیکن دنیا بھر میں جاری وبائی امراض کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ان حالات میں سخت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں تبدیل ہورہے موسم کے ساتھ ساتھ موسمی امراض کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے جو کہ ان حالات میں عوام کی تشویش میں اضافہ کا سبب بنا ہوا ہے۔ موسم باراں کے اختتام اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں موسمی بخار کے علاوہ کھانسی ‘ سردی اور سر درد کی شکایات عام ہونے لگتی ہیں لیکن ان امراض اور کورونا وائرس کی علامات میں یکسانیت نے شہریوں کی تشویش میں اضافہ کیا ہوا ہے ۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ موسمی امراض کے ساتھ قوت مدافعت کمزور ہونے لگتی ہے اسی لئے ایسے دور میں احتیاط سے کام لینے اور ان بیماریوں کے علاج پر فوری توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت اور موسمی امراض میں اضافہ سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان امراض کے فوری علاج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اطباء کا کہنا ہے کہ ہر کھانسی ‘ بخار‘ سردردیا نزلہ کورونا وائرس نہیں ہوتا اور ایسے وقت میں جبکہ شہر میں موسمی امراض کا دور ہو خوفزدہ ہونے کے بجائے احتیاط کے ساتھ علاج پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ کورونا وائرس کے دور میں موسم باراں کے آغاز کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کی جانب سے شہری علاقوں کے علاوہ دیہاتوں میں موسمی بیماریوں کو روکنے کیلئے متعدد اقدامات کے ساتھ ان عوارض میں مبتلاء افراد کی جانچ کے اقدامات کئے گئے تھے اور اب جبکہ موسم میں رونما ہونے والی تبدیلی کے سبب پیدا شدہ حالات سے نمٹنے کے اقدامات کی ضرورت ہے تو ریاستی حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کو بستی دواخانوں کی تشہیر پر توجہ مبذول کرنی چاہئے ۔ دونوں شہروں کے خانگی دواخانوں اور کلینکس میں ان شکایات کے ساتھ رجوع ہونے والے مریضوں کے متعلق ڈاکٹرس کا کہناہے کہ سردی ‘ کھانسی ‘ نزلہ ‘ بخار موسم کی تبدیلی کے دوران عام شکایات ہیں لیکن موجودہ دور میں ان شکایات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اسی لئے ان عوارض میں مبتلاء افراد کو محتاط رہنے کے علاوہ ان کے استعمال کی اشیاء کو علحدہ رکھنے کے اقدامات کئے جانے چاہئے کیونکہ موسمی بخار اور دیگر عوارض عام طور پر وبائی ہوا کرتے ہیں اور اس وبائی صورتحال سے نمٹنے کیلئے قوت مدافعت کو مستحکم رکھنے کے علاوہ ان بیماریوں کے فوری علاج پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو ان وبائی امراض سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے فوری میڈیکل کیمپس کے انعقاد کے علاوہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی مہم چلانی چاہئے تاکہ شہریوں میں خوف پیدا نہ ہو اور وہ اپنی ان موسمی بیماریوں کا بروقت علاج کروانے کیلئے تیار رہیں۔