کھانسی کی آواز سے کورونا کا پتہ لگانے کی کوشش

   

جدہ۔19 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سعودی عرب کی ام القری یونیورسٹی میں کھانسی کی آواز کے ذریعے نئے کورونا وائرس کی تشخیص کے پروجیکٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی کے ماتحت مصنوعی ذہانت پر اچھوتے انداز سے کام کرنے والے سینٹرسیادۃنے بڑے پیمانے پر اس کا تجربہ شروع کردیا۔تفصیلات کے مطابق مکہ مکرمہ میں واقع یونیورسٹی کے سیادۃ سینٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے اسکالرمصنوعی ذہانت کی مدد سے کھانسی سے نکلنے والی آواز کا تجزیہ کرکے کورونا وائرس لگنے کا پتہ لگانے کے لیے ایک پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔ام القری یونیورسٹی کے ماتحت سیادۃ سینٹر کے مطابق اسے اس پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے ایسے رضاکاروں کی ضرورت ہے جو کھانسی کی آواز مطلوبہ طریقے سے ریکارڈ کرکے ہمیں پہنچائیں۔ضروری نہیں کہ وہ کورونا کے مریض ہوں یا انہیں سانس کا عارضہ لاحق ہوبلکہ کوئی بھی شخص جو کھانسی میں مبتلا ہو وہ مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی کھانسی کی آواز ویب سائٹ پر ریکارڈ کرواسکتا ہے۔