کھمم اور ورنگل میں کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا دوبارہ امتحان

   

Ferty9 Clinic

بلدی انتخابات پر ٹی آر ایس کی توجہ، بی جے پی کے قدم روکنے کی حکمت عملی
حیدرآباد: دوباک اور گریٹر حیدرآباد کے بعد ٹی آر ایس کھمم ، ورنگل اور سدی پیٹ میں مجالس مقامی کے انتخابات میں ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ کو متحرک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ورنگل ، کھمم اور سدی پیٹ میں یکساں انتخابات کے انعقاد کا مسئلہ چیف منسٹر کے سی آر کے پاس زیر غور ہے۔ دونوں وزراء ٹی آر ایس کے اسٹار کیمپینرس کے طور پر مہم چلائیں گے اور دونوں وزراء کے لئے بلدی انتخابات کسی چیلنج سے کم نہیں۔ دوباک میں ٹی آر ایس کو شکست ہوئی جبکہ گریٹر بلدی انتخابات میں ٹی آر ایس کو نشستوں کا بھاری نقصان ہوا۔ کے ٹی آر نے کھمم اور ورنگل میں مختلف ترقیاتی سرگرمیوں کے ذریعہ عوام کو ٹی آر ایس کی طرف راغب کرنے کی مہم شروع کردی ہے جبکہ ہریش راؤ اپنے انتخابی حلقہ سدی پیٹ میں سرگرم ہیں۔ دونوں وزراء کیلئے مجوزہ بلدی انتخابات اہمیت کے حامل رہیں گے اور بی جے پی کے بڑھتے قدموں کو روکنے کیلئے کے سی آر نے حکمت عملی تیار کی ہے ۔ مبصرین کے مطابق کھمم ، ورنگل اور سدی پیٹ میں ٹی آر ایس کو بی جے پی اور کانگریس سے سخت مقابلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ ٹی آر ایس تینوں مجالس مقامی پر دوبارہ کامیابی حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ بی جے پی حالیہ کامیابیوں کے پس منظر میں اپنی پوری طاقت جھونک دے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی نے حیدرآباد کی طرح ورنگل اور کھمم بلدی انتخابات میں قومی قائدین کے ذریعہ انتخابی مہم کا فیصلہ کیا ہے ۔ 2016 ء میں گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن میں ٹی آر ایس کو 58 وارڈس میں سے 44 میں کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ کانگریس کو چار اور بی جے پی اور سی پی ایم کو ایک ایک وارڈ میں کامیابی ملی ۔ 8 آزاد امیدوار منتخب ہوئے تھے ۔ کھمم میونسپل کارپوریشن میں جملہ 50 ڈیویژن ہیں جن میں ٹی آر ایس کو 34 پر کامیابی ملی ، کانگریس 10 اور سی پی آئی ، سی پی ایم اور وائی ایس آر کانگریس کو دو دو نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ سدی پیٹ میونسپلٹی میں بھی ٹی آر ایس کو اکثریت حاصل ہے۔ تینوں مجالس مقامی پر دوبارہ کامیابی کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی مہم اور حکمت عملی پر منحصر رہے گی۔