لوک سبھا چناؤ لڑنے کا اعلان، اوریجنل کانگریس قائدین سے ناانصافی کی شکایت
حیدرآباد ۔ 27 ۔ فروری(سیاست نیوز) کھمم لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کا اعلان کرتے ہوئے سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے کانگریس پارٹی میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے کھمم لوک سبھا حلقہ میں پارٹی کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے ہنمنت راؤ نے لوک سبھا ٹکٹ کی دعویداری پیش کی تھی لیکن موجودہ صورتحال میں ٹکٹ ملنے کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں جس پر ہنمنت راؤ برہم دکھائی دیئے ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ کھمم لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کر کے دکھائیں گے۔ میں نے کئی برسوں تک کھمم میں کام کیا ہے اور کھمم کے عوام مجھے مقابلہ کی دعوت دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ کسی بھی ناانصافی کا انہوں نے کھمم پہنچ کر مقابلہ کیا۔ پارٹی کیڈر کھمم سے میرے مقابلہ کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لئے خود کو وقف کردینے والا کوئی اور قائد موجود نہیں ہے۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی کے بعد انہوں نے تلنگانہ میں سب سے زیادہ دورے کئے ہیں اور عوام سے ربط قائم کیا ہے۔ ریونت ریڈی اور بھٹی وکرمارکا کی پد یاترا میں وہ حصہ لے چکے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ مجھے ریونت ریڈی پر پورا بھروسہ ہے۔ میں نے ہمیشہ ریونت ریڈی کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی دوں گا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت کے مسئلہ پر ابتداء میں مخالفت کے بعد میں نے ہائی کمان کے فیصلہ کو قبول کرلیا۔ بعض گوشے میری اہمیت گھٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پارٹی میں نئے شامل افراد لوک سبھا ٹکٹ کا مطالبہ کریں تو سینئر قائدین کہاں جائیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس کے حقیقی قائدین سے زیادہ ٹکٹ کا کون حقدار ہوسکتا ہے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد بھی سابق میں ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات باقی ہیں۔ انہوں نے مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ الیکشن میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی ۔ اسمبلی چناؤ میں ریونت ریڈی اور میں نے سب سے زیادہ دورے کئے جبکہ دیگر قائدین اپنے حلقہ جات تک محدود رہے۔ میں نے کئی کئی قائدین کو تیار کیا ہے۔ راجیو گاندھی کے دور میں میری کم عمری چیف منسٹر کے عہدہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کمان سے انہیں امید ہے کہ کھمم کا ٹکٹ دیا جائے گا اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔ 1