کھمم متاثرہ لڑکی سے کانگریس رکن اسمبلی سیتکا کی ملاقات

   

موثر علاج کیلئے ڈاکٹرس کو ہدایت، خاندان کو تحفظ فراہم کرنے مطالبہ
حیدرآباد: کانگریس رکن اسمبلی سیتکا نے پارٹی کی مہیلا قائدین کے ساتھ عثمانیہ ہاسپٹل پہنچ کر کھمم کی متاثرہ کمسن لڑکی سے ملاقات کی۔ اس لڑکی کو مبینہ طور پر عصمت ریزی کی کوشش کی گئی اور مزاحمت پر زندہ جلانے کی غیر انسانی حرکت کی گئی ۔ سیتکا نے متاثرہ لڑکی اور ان کے ارکان خاندان سے ملاقات کی اور واقعہ کے سلسلہ معلومات حاصل کیں۔ کانگریس قائدین نے متاثرہ خاندان کو بھروسہ دلایا کہ انصاف کی فراہمی تک جدوجہد جاری رہے گی ۔ رکن اسمبلی نے عثمانیہ ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ اور دیگر ڈاکٹرس سے متاثرہ لڑکی کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے ڈاکٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ علاج میں کوئی کوتاہی یا کمی نہ کریں۔ رکن اسمبلی نے کہا کہ اگر عثمانیہ ہاسپٹل میں موثر علاج ممکن نہیں ہے تو لڑکی کو کسی کارپوریٹ ہاسپٹل میں شریک کیا جائے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سیتکا نے کہا کہ کمسن لڑکی پر ظلم کے واقعہ کو حکام کی جانب سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برسر اقتدار پارٹی کے کسی عوامی نمائندے، وزیر اور کسی قائد نے متاثرہ لڑکی سے ملاقات نہیں کی اور نہ افراد خاندان کو انصاف کا بھروسہ دلایا ۔ انہوں نے کہا کہ دلت لڑکی سے انصاف کی فراہمی میں حکومت کی بے حسی افسوسناک ہے ۔ تلنگانہ میں خواتین پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ حال ہی میں معین آباد علاقہ میں اقلیتی طبقہ کی کمسن لڑکی کو برسر اقتدار پارٹی کے ایک قائد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا۔ سیتکار نے کہا کہ ریاستی کابینہ میں دو خاتون وزراء موجود ہیں ، اس کے علاوہ ٹی آر ایس کے کئی خاتون ارکان اسمبلی ہیں جن کا تعلق دلت طبقہ سے ہے۔ باوجود اس کے کسی نے متاثرہ خاندان سے ملاقات نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ 13 سالہ دلت لڑکی کی حالت تشویشناک ہے اور واقعہ کے 18 دن گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے موثر علاج کے انتظامات نہیں کئے گئے۔ رکن اسمبلی نے زخمی لڑکی کو اپولو یا یشودھا ہاسپٹل منتقل کرنے کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کے افراد خاندان کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور وہ خوفزدہ ہیں۔ کلکٹر اور کمشنر پولیس کو چاہئے کہ انہیں تحفظ فراہم کریں۔ سیتکا نے کہا کہ کسی لیڈی ڈاکٹر کی موجودگی میں آج تک لڑکی کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت انصاف کی فراہمی میں دلچسپی نہیں رکھتی ۔