کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ غار والے اور رقیم والے ہماری ان نشانیوں میں سے ہیں جو تعجب خیز ہیں۔ ( سورۃ الکہف ؍۹)
گزشتہ سے پیوستہ … یملخاہ سوچ رہے تھے کہ بار خدا ! ایک آٹھ پہر میں یہ کیا انقلاب گیا، کل جب چھوڑ کر گئے تو اس شہر کا کیا حال تھا اور آج کیا ہے۔ ایک نانبائی کی دکان پر گئے اور اُسے کھانا دینے کے لئے کہا اُس نے کھانا دیا۔ انہوں نے وہی پرانا سکہ جو یہاں سے جاتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے تھے، اِس کی طرف بڑھا دیا۔ دکاندار اِس سکہ کو دیکھ کر ہکا بکا ہوگیا۔ معاملہ نے طول پکڑا اِردگرد کے دکاندار بھی اِکٹھے ہوگئے۔ یملیخاہ پر الزام لگایا گیا کہ اِسے کوئی پرانا شاہی خزانہ ہاتھ آیا، معاملہ حاکم شہر تک پہنچا۔ یہاں آ کر حقیقت حال سے پردہ اُٹھا۔ اُنہیں پتا چلا کہ یہ ان نوجوانوں میں سے ایک ہے جو ڈیسیس کے مظالم سے بھاگ کر ایک غار میں پناہ گزیں ہوگئے تھے۔ لوگوں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، سب اُن کی جھلک دیکھنے کے لئے غار تک گئے، وہاں دوسرے ساتھی یملیخاہ کا انتظار کرتے کرتے اُکتا گئے اور اُن کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہونے لگے تھے ۔ جب اُنہوں نے ایک جم غفیر غار کی طرف آتے دیکھا تو اُنہیں یقین ہوگیا کہ اُن کا ساتھی پکڑا گیا ہے اور اُس کے بتلانے پر یہ ہجوم انہیں گرفتار کرنے کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ جب لوگ حاکم شہر کی قیادت میں وہاں پہنچے تب اصحاب کہف کو معلوم ہوا کہ انہیں یہاں ٹھہرے صدیاں گزر چکی ہیں اور اب حالات کا رخ بدل گیا ہے اور عیسائیت کا ہر طرف چرچا ہے۔ صرف رعایا ہی نہیں بلکہ حکومت بھی اس دین کو قبول کرچکی ہے۔ مورخین کے بیان کے مطابق یہ واقعہ۴۳۷ء میں پیش آیا جبکہ روما کے تخت پر تھیوڈ و سیس (Dheosius) متمکن تھا۔