چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی کل جب سماجوادی پارٹی کی انتخابی مہم میں حصہ لینے وارناسی پہونچیں تو ان کے خلاف زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں سیاہ پرچم دکھائے گئے اور ان کے خلاف نعرہ بازی بھی کی گئی ۔ ممتابنرجی اس سے پہلے بھی اترپردیش کا دورہ کرچکی ہیں اور اس وقت بھی انہوں نے سماجوادی پارٹی کی تائید کا اعلان کیا تھا ۔ اترپردیش میںاسمبلی انتخابات کا عمل اب تقریبا مکمل ہوچکا ہے ۔ اب تک سات کے منجملہ چھ مراحل میں ووٹ ڈالے جاچکے ہیںاور اب 7 مارچ پیر کو آخری مرحلہ میں ووٹ ڈالے جانے باقی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی ممکنہ حد تک عوام کی تائید حاصل کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے تو اپوزیشن اتحاد بھی کوئی کسرباقی رکھنے کو تیار نہیں ہے ۔ بی جے پی کو یہ اندیشے لاحق ہوگئے ہیں کہ اب تک ہوئے چھ مراحل کے انتخابات میںاسے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ بی جے پی قائدین حالانکہ صورتحال پر کسی طرح کا اعتراف کرنے تیار نہیں ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوں کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں اور ان کے دعوے بھی مستحکم ہو رہے ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ بی جے پی کو اس بار اترپردیش میں عوام کے موڈ کا اندازہ لگانے میںکامیابی نہیں ہوئی ہے اور وہ اپنے پرانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فرقہ پرستی کے ایجنڈہ پر انتخاب لڑنا چاہتی تھی لیکن عوام نے اس کوشش کو ناکام بنادیا اور لوگ روزگار کی قلت پر سوال کر رہے ہیں۔ حکومت کی کارکردگی کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے ۔ کورونا بحران کے دوران عوام کو پیش آئی مشکلات کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر پریشانی کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ خواتین کی سلامتی اور ان کی عصمتوں کے تحفظ پر بات کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے ۔ خود ممتابنرجی نے کل ان کے خلاف مظاہرہ کے بعد اسی خیال کا اظہار کیا کہ بی جے پی چونکہ انتخابات میں شکست کا سامنا کرنے والی ہے ایسے میں وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔گذشتہ دنوں سماجوادی پارٹی کے دو امیدواروں سوامی پرساد موریہ اور گلشن یادو پر بھی حملے ہوئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے دعووں اور انتخابی نتائج جو کچھ بھی ہونگے ان سے قطع نظر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی ملک میں کسی بھی اپوزیشن کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے ۔ اترپردیش میں بھی اسی روش کو اختیار کیا جا رہا ہے ۔ سات سال قبل بی جے پی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا تھا ۔ اس وقت کچھ علاقائی جماعتوں نے بی جے پی کے اتحاد کی وجہ سے اس نعرہ کی تائید کی تھی لیکن انہیں اندازہ نہیں ہوپایا تھا کہ کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دینے والی بی جے پی در اصل اپوزیشن مکت بھارت بنانا چاہتی ہے ۔ وہ ملک میں کسی بھی طرح کی اپوزیشن کو برداشت کرنے تیار نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی حکومت کے خلاف رائے رکھنے والوں کو بھی کھلے عام نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ حکومت اور وزیر اعظم سے اختلاف رکھنے والوں کو ملک دشمن اور غدار تک قرار دینے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے ۔ سماجی جہد کار اور صحافی بھی حکومت کی انتقامی کارروائیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ اترپردیش میں تو صورتحال خاص طور پر ابتر ہے کیونکہ وہاں کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ آمرانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ کسی کو حکومت یا خود اپنے خلاف زبان کھولنے کی اجازت دینا نہیں چاہتے ۔ یہ روش جمہوریت کے خلاف ہے اس سے جمہوری اقدار کی پامالی ہوتی ہے ۔ تاہم بی جے پی کو اپنے ایجنڈہ کی تکمیل سے مطلب ہے ۔ جمہوری اقدار سے کوئی سروکار نہیں رہ گیا ہے ۔
انتخابات میں ایک جماعت کا دوسری جماعت سے اختلاف کرنا اور اس کے خلاف مہم چلانا جمہوریت کا حصہ ہے لیکن اس کو ذاتی دشمنی یا شخصی مخاصمت کا رنگ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اسے انا پرستی کی جنگ نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ کوئی بھی فیصلہ کرنا عوام کا اختیار ہوتا ہے ۔ عوام اپنے ووٹ سے کسی کو بھی حکومت دے سکتے ہیں اور کسی کو بھی تخت سے بیدخل کرسکتے ہیں۔ ایسے میں سیاسی قائدین کو حملوں کا نشانہ بنانا اوچھی ذہنیت کی علامت کہا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی ہو یا کوئی اور جماعت ہو اس طرح کی حرکتوں سے باز رہتے ہوئے صحتمندانہ مقابلہ کی جمہوری روایات اورا قدار کو برقرار رکھنا چاہئے تاکہ ہمارا جمہوری نظام مزید مستحکم ہوسکے ۔