کیا حیدرآباد ٹریفک سگنل سے پاک ہوجائے گا؟

   

5937 کروڑ سے پراجکٹ کی تجویز، شہری سہولتوں میں اضافہ کیلئے جی ایچ ایم سی کے اقدامات
حیدرآباد۔یکم؍ جنوری، ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کیا ٹریفک سگنلس سے پاک ہوجائے گا؟ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی میئر جی وجیہ لکشمی کی بات مانیں تو حیدرآباد عنقریب ٹریفک سگنلس سے پاک شہر بن سکتا ہے۔ میئر حیدرآباد نے 2024 میں قطعیت دیئے گئے مختلف پراجکٹس کی تفصیلات جاری کیں۔ سڑکوں کی توسیع کے علاوہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے ٹریفک سگنل فری حیدرآباد کا منصوبہ ہے۔ 2000 کروڑ سے سڑکوں کی توسیع کا کام انجام دیا جائے گا جبکہ سگنل فری سٹی بنانے کیلئے 5937 کروڑ کے خرچ کا منصوبہ ہے۔ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میں ترقیاتی پراجکٹس کی ترجیحی بنیادوں پر تکمیل کا فیصلہ کیا ہے اور شہری سہولتوں کو بہتر بنانے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے تحت کئی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ میئر حیدرآباد نے سال 2025 کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نئے پراجکٹس کی عاجلانہ تکمیل کا عہد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی اہم سڑکوں کی توسیع کیلئے 200 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ اہم سڑکوں میں دبیر پورہ پولیس اسٹیشن تا ناگا باؤلی، شیخ فیض کمان تا دبیر پورہ فلائی اوور اور شاستری پورم جنکشن تا فلک نما بس ڈپو کی سڑک شامل ہے۔ ٹریفک کے مسائل سے نمٹنے کیلئے حیدرآباد، سائبرآباد اور راچہ کنڈہ میں 34 جنکشن کو ترقی دی گئی جس پر 233 کروڑ کا خرچ آیا ہے۔ جی ایچ ایم سی نے ایچ سٹی پراجکٹ کے تحت 11 ترقیاتی کاموں کی نشاندہی کی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپس کی امداد کے طور پر 5174 گروپس کو 564.61 کروڑ جاری کئے گئے۔ 1075 نئے گروپس قائم کئے گئے ہیں۔ سی ایس آر کے تحت 4 ٹریننگ سنٹرس چندا نگر، ماچا بلارم، ملے پلی اور بورا بنڈہ میں قائم کئے گئے۔ اندرا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت 230 گروپ یونٹس اور 2871 انفرادی یونٹس کا قیام عمل میں آیا ہے۔ 34 اسٹرام واٹر کنالس کی تعمیر کیلئے 528.51 کروڑ مختص کئے گئے۔ شہر کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کیلئے 149.84 کروڑ مختص کئے گئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے حیدرآباد کو سگنل فری سٹی بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ سفر کا وقت کیا جائے اور آلودگی پر قابو پایا جائے۔ اس پراجکٹ پر 5937 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ جی ایچ ایم سی نے 42 پراجکٹس کے منجملہ 37 کی تکمیل کی ہے جن میں فلائی اوورس بھی شامل ہیں۔1