کیا غیرقانونی طور پر رکھی گئی مورتی کو مقدس سمجھا جاسکتا ہے؟

,

   

ایودھیا فیصلہ پر سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ ظفریاب جیلانی کا استفسار
لکھنؤ 29 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد ۔ ایودھیا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تناظر میں ظفر یاب جیلانی نے استفسار کیاکہ آیا غیر قانونی طور پر رکھی گئی مورتی کو مقدس یا بھگوان سمجھا جاسکتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی اراضی پر غیر قانونی طور پر زبردستی سے رکھی گئی مورتی آیا مقدس ہوسکتی ہے؟ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے ڈسمبر کے پہلے ہفتہ میں ایک درخواست نظرثانی داخل کی جائے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے کہاکہ بھگوان رام کی مورتی کی بابری مسجد کے مقام سے متصل رام چبوترے پر1885 ء سے پوجا کی جارہی ہے۔ کیا مورتی ہندوؤں کے لئے بھگوان ہے؟ ہم اِس بارے میں حجت کرنا نہیں چاہتے تاہم مورتی کو غیر قانونی طور پر بابری مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے رکھا گیا۔ رام للّا کی مورتی 22 اور 23 ڈسمبر 1949 ء کی درمیانی شب رکھا گیا جیسا کہ 9 نومبر کے فیصلہ میں خود سپریم کورٹ نے اِس عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ظفریاب جیلانی نے کہاکہ 1885 ء سے لے کر 1949 ء کے درمیان رام چبوترہ پر اِس مورتی کی پوجا کی جارہی تھی تب اِس اراضی کے لئے جدوجہد کرنے کابھکتوں کو قانونی حق حاصل تھا لیکن 1949 ء کے ایف آئی آر میں یہ بتایا گیا کہ مورتی کو زبردستی رکھا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے یہ قبول کیا ہے کہ مسجد کو بند نہیں کیا گیا تھا، مسلمانوں نے 1857 ء سے 1949 ء تک یہاں پر نماز ادا کی اور سپریم کورٹ نے یہ بھی ریکارڈ کیا ہے کہ 1949 ء میں مسجد کے مرکزی گنبد کے اندر مورتی کو غیر قانونی اور زبردستی رکھا گیا۔ جب ایک مورتی کو غیرقانونی طور پر رکھا گیا ہے تو کیا یہ مورتی مقدس ہوگی؟