کیا لاک ڈاؤن کے بعد عام زندگی بحال ہوگی ؟

   

حکومت اور عالمی ادارہ صحت کے سخت گیر قواعد سے ہوٹل و غذائی صنعت کو سنگین خطرات
حیدرآباد۔6مئی (سیاست نیوز) ملک میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد عام زندگی بحال ہوگی! جو تبدیلیاں رونما ہوں گی ان تبدیلیوں میں ایسی کیا خصوصیت ہوگی کہ شہریوں کو کورونا وائرس سے بے خوف ہوکر زندگی گذارنے کی جانب مائل کرے گی۔ حکومت کی جانب سے عالمی ادارہ صحت کے رہنمایانہ خطوط اور احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر من و عن عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے ۔ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ ہی شہر حیدرآباد یا ہندستان میں موجود ریستوراں اور اشیائے تغذیہ کی صنعت تباہ ہوجائے گی کیونکہ عالمی ادارہ صحت اور حکومت ہند کی جانب سے جو سخت گیر اصول تیار کئے گئے ہیں ان کے بغیر ان اداروں کو قطعی کاروبار کی اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ڈبلیو ایچ او کی نظر میں اگر اس میں رعایت فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں حالات انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں اور یہ کورونا وائرس کے پھیلائو کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے ان شرائط کو پورا کرنے پر ہی ریستوراں اور اشیائے خورد و نوش کی تجارت کی اجازت دی جائے گی اور شہریوں کو بھی اس بات سے آگاہ کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی مقام پر جب باہر کھانے کیلئے جائیں تو کن باتوں کا خیال رکھیں۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈ اتھاریٹی آف انڈیا جانب سے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ان کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہر حیدرآباد یا ہندستان میں کوئی متوسط یا بجٹ ریستوراں کو باقی نہیں رکھا جائے گا کیونکہ کسی بھی بجٹ ریستوراں یا اشیائے خورد و نوش کی تیاری کرنے والے ادارہ کی جانب سے ان رہنمایانہ خطوط پر پورا اترنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ FSSAI کی جانب سے جو اصول پہلے سے مرتب ہیں وہ ہی انتہائی سخت ہوا کرتے تھے لیکن بعض معمولی رعایتیں فراہم کرتے ہوئے عہدیداروں کی جانب سے معمولی غلطیوں کو نظر انداز کیا جاتا تھا لیکن اب لاک ڈاؤن کے بعد جو صورتحال ہوگی اس کیلئے ایسی کوئی رعایت کی گنجائش نہیں ہے بلکہ جو شرائط تیار کئے گئے ہیں ان کے مطابق کسی بھی طعام خانہ ‘ ریستوراں اور اشیائے خورد و نوش کی خرید و فروخت کرنے والوں کو ان شرائط کی تکمیل کے بغیر تجارتی سرگرمیوں کو انجام دینے کی اجازت ہی نہیں ہوگی۔