شناخت کیلئے علحدہ طور پر مسلم کالم نہیں ہے جنرل زمرے میں اندراج کرنے کی سہولت فراہم کی گئی
شادیوں کا اضافہ کالم ہونا چاہئیے ۔ مسلمانوں کے چار شادیاں کرنے کے الزامات پر حقائق کو سامنے لایا جاسکے
حیدرآباد : /30 اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ اور ملک بھر میں جاری حالیہ مردم شماری (Census 2026) کے عمل کے حوالے سے اقلیتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ مختلف سیاسی ، سماجی اور رضاکارانہ تنظیموں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری کے پورٹل اور ویب سائیٹ میں موجودہ خامیوں کو فوری طور پر درست کیا جائے ۔ ایک اندازے کے مطابق سارے ملک میں 25 کروڑ سے زیادہ مسلمان ہیں ۔ جبکہ تلنگانہ میں لگ بھگ 50 لاکھ مسلمان ہیں ۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ پورٹل http://se.census.gov.in پر فی الحال صرف ایس سی ، ایس ٹی اور دیگر مخصوص کمیونیٹیز کے آپشنس دستیاب ہیں ۔ اس تیکنیکی رکاوٹ کی وجہ سے ریاست کے تقریباً 50 لاکھ مسلمانوں کو اپنی شناخت کی مخصوص اندراج کے بجائے جنرل کیٹیگری (عام زمرہ) کا انتخاب کرنا پڑرہا ہے ۔ جب تک مسلمانوں کیلئے علحدہ کالم نہیں ہوگا حکومت کے پاس ان کی اصل معاشی ، تعلیمی ، سماجی حالت کا درست ڈیٹا نہیں پہنچے گا ۔ جبکہ حقائق یہ ہے کہ اسی درست ڈیٹا کی بنیاد پر حکومت کی جانب سے بجٹ کی تقسیم ، تعلیم ، صحت ، روزگار اور ہاؤزنگ جیسی پالیسیاں بنتی ہیں ۔ لہذا اس مسئلہ پر فوری توجہ دینا حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے ۔ ان متعلقہ تنظیموں نے مردم شماری کے فارم میں شادی شدہ حیثیت (Marriages Count) سے متعلق ایک مخصوص کالم شامل کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے ۔ مسلمانوں پر کثرت ازدواج (چار شادیاں) کے بے بنیاد الزامات لگاکر جو ذہنی طور پر ہراسانی کی جاتی ہے اس مردم شماری کے ڈیٹا کے ذریعہ حقیقت سامنے لائی جاسکے ۔ ایک سے زائد شادیوں کے اعداد و شمار عوامی سطح پر آنے سے وہ تمام غلط فہیمیاں دور ہوںگی جو سیاسی یا سماجی طورپر مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں ۔ اس کالم کے اضافے سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ کثرت ازدواج کی شرح تمام کمیونیٹیز میں کس قدر ہے جس سے آنکھیں کھولنے والے حقایق سامنے آئیں گے ۔ تنظیموں نے عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ درج کرنے کا مساوی موقع فراہم کریں ۔ یہ کالم نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام مذاہب کیلئے ہونا چاہئیے ۔ تاکہ ملک میں ازدواجی رجحانات کی اصل تصویر سامنے آسکے۔/A/2/Y