کس کی نظروں کا سہارا ہے مجھے
جس طرف جاتا ہوں قاتل ساتھ ہے
کورونا وائرس کی وباء ایسا لگتا ہے کہ ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے کیونکہ اب جبکہ ملک بھر میں دوسری لہر کا قہر پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا کہ تیسری لہر کا آغاز ہونے والا ہے ۔ کیرالا میں خاص طور پر سائنسدانوں اور محکمہ صحت کے حکام کو اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ریاست میں کورونا کیسوں میں چونکہ مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے شائد یہ تیسری لہر کا نقطہ آغاز ہو۔ کورونا کی دونوں لہروں کے درمیان بھی کیرالا ریاست بری طرح متاثر رہی تھی ۔ ہندوستان میں پہلا کورونا کیس بھی شائد کیرالا میں دریافت ہوا تھا اور پھر پہلی و دوسری لہر کے دوران ریاست میں بہت زیادہ شدت کے ساتھ وائرس پھیلتا گیا تھا ۔ کثیر تعداد میں لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے ۔ عوام کو شدید مشکلات پیش آئی تھیں۔ ریاستی حکومت کی جانب سے حالانکہ کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے تھے لیکن اس وائرس کی شدت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا ۔ عوام کی مشکلات میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔ خود مرکزی حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ملک میں ابھی کورونا کی دوسری لہر کا اثر ختم نہیں ہوا ہے اور کچھ ریاستوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ملک میں تقریبا چار درجن اضلاع ایسے ہیں نہ صرف کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ انفیکشن کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے ۔ یہ صورتحال تشویشناک ہی ہوسکتی ہے کیونکہ انفیکشن کی شرح میں اضافہ سے کیسوں کی تعداد از خود ہی بڑھ سکتی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس کتنے لوگوں کو متاثر کرنے لگا ہے ۔ اب جبکہ کیرالا میں صورتحال بگڑتی جا رہی ہے ایسے میں نہ صرف کیرالا بلکہ سارے ملک میں چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیرالا میں دوسری لہر کے دوران یومیہ کیسوں کی تعداد 12 تا 14 ہزار کے درمیان ریکارڈ کی جا رہی تھی لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران یومیہ متاثرین کی تعداد 20 ہزار کو پار کرچکی ہے ۔ یہ تعداد بتدریج یومیہ 25 ہزار کے قریب پہونچ رہی ہے ۔ یہ اعداد و شمار ایسے ہیں جو کسی کو بھی پریشان اور فکرمند کرسکتے ہیں۔ اس سے وائرس کے پھیلاو میں شدت کا پتہ چل رہا ہے ۔اس تعداد نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے جو تیسری لہر کے اندیشے ظاہر کر رہے ہیں۔
کیرالا میں عوامی صحت کے ماہرین کا ہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ تیسری لہر کی شروعات ہے اور اب سبھی کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست میں آبادی بھی زیادہ ہے اور حکومت کو اس سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ حکمت عملی دیرپا ہونی چاہئے ۔ اڈھاک سطح پر اقدامات اس وائرس پر قابو پانے میں موثر ثابت نہیں ہوسکتے اور نہ ہی اس کے ذریعہ متاثرین کی تعداد پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ کیرالا میں متاثرین کی جو تعداد ہو گئی ہے وہ ملک بھر کے کورونا کیسوں کا جملہ 51 فیصد ہوگئی ہے ۔ اس سے ریاست کی سنگین صورتحال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ انفیکشن کی جو شرح ہے وہ ملک بھر میں 0.13 فیصد ہے جبکہ یہ شرح کیرالا میں 0.60 ہے جو قومی تناسب سے بہت زیادہ ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو بھی وبائی امراض وغیرہ پھوٹتے ہیں ان کی ایک سے زائد لہر ہوتی ہے ۔ وہ مختلف لہروں میں شکل بدل کر عوام کو متاثر کرسکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں حکومت کو تمام تر تفصیلات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیرپا اور موثر حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ مرکزی حکومت کو بھی اس معاملے میں ریاست کے ساتھ مکمل تعاون کرنے اور ہر ممکن مدد کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اگر ریاستی اور مرکزی حکومتیں مل کر مشترکہ کاوشوں سے وائرس کی روک تھام کیلئے کوئی حکمت عملی بنائیں اور ٹھوس اقدامات کریں تو تیسری لہر کے اثرات کو کم سے کم کرنے میں مدد بھی مل سکتی ہے ۔
کیرالا کی صورتحال نہ صرف کیرالا کیلئے بلکہ دوسری ریاستوں کیلئے بھی تشویش کا باعث ہوسکتی ہے ۔ خاص طور پر جنوبی ہند کی جو ریاستیں ہیں ان کو بہت زیادہ چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ کچھ ریاستوں نے تو کیرالا سے سرحدات پر تحدیدات عائد کردی ہیں اور سفر پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ایک سے دوسری ریاست کو وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی اپنے طور پر یہ ممکنہ کوشش ہے ۔ کیرالا کے عوام ہوں یا پڑوسی ریاستوں کے عوام ہوں سبھی کو اس معاملے میں چوکسی اختیار کرنے اور حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے بغیر تیسری لہر پر اور اس سے ہونے والے نقصانات پر قابو پانا مشکل ہوجائیگا ۔
