کیرالا کی طرح تلنگانہ اسمبلی میں شہریت قانون کے خلاف قرارداد پیش کی جائے

   

محمد علی شبیر کا مطالبہ، کے سی آر اپنا سکیولرازم ثابت کریں
حیدرآباد۔ 2 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کیرالا اسمبلی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالف دستور قانون کے خلاف کیرالا اسمبلی میں قرارداد کی منظوری خوش آئند ہے۔ کیرالا حکومت نے دیگر ریاستوں کے لیے مثال قائم کی ہے۔ محمد علی شبیر نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ حکومت اور دیگر ریاستیں شہریت قانون کے خلاف اپنی اسمبلیوں میں قرارداد منظور کرتے ہوئے عوامی جذبات کا احترام کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مسلم رہنمائوں سے ملاقات کے وقت وعدہ کیا تھا کہ اندرون دو یوم وہ این آر سی اور این پی آر پر اپنے موقف کا اظہار کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہم خیال چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے 30 جنوری کو جلسہ عام کا تیقن دیا تھا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود آج تک چیف منسٹر نے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاستی وزیر سرینواس گوڑ نے جلسہ عام کے انعقاد سے انکار کردیا اور کہا کہ چیف منسٹر نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔ کانگریس قائد نے کہا کہ چیف منسٹر کو فوری کابینہ اور اسمبلی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اپنے موقف کا اعلان کرنا چاہئے۔ سکیولرازم کا دعوی کرنا آسان ہے لیکن اسے ثابت کرنا کے سی آر کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں کے سی آر نے مرکز کی بی جے پی حکومت کے تمام فیصلوں کی تائید کی جن میں طلاق ثلاثہ اور کشمیر کی دفعہ 370 کی برخاستگی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ملک بھر میں سکیولر طاقتیں متنازعہ قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں، کے سی آر کی خاموشی معنی خیز ہے۔