کینیڈا میں ایغور مسلمانوں کے حق میں تحریک منظور

   

ٹورنٹو :کینیڈا کی پارلیمنٹ نے کسی پابندی کے بغیر ایک تحریک منظور کرلی ہے جس میں کہا گیا ہیکہ سنکیانگ میں ایغور مسلم اقلیت کے ساتھ چین کا سلوک نسل کشی کی حیثیت رکھتا ہے۔روئیٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اس تحریک میں کینیڈا کے لبرل وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ اس معاملے پرغور کرے۔حزب اختلاف کی کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی اس تحریک کے لئے کینیڈا کے دارالعوام نے-0266 کے تناسب سے ووٹ دیئے۔ٹروڈو اور ان کی کابینہ نے ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے حالانکہ پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے لبرلز نے اس تحریک کی بڑے پیمانے پر حمایت کی۔ووٹنگ سے قبل اس تحریک میں یہ ترمیم بھی کی گئی کہ اگر چین، یوغیر مسلمانوں کے ساتھ اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا تو بین الاقوامی اولمپک کمیٹی سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ 2022 کے سرمائی اولمپکس کو بیجنگ سے کہیں اور منتقل کر دے۔ٹروڈو کے قدامت پرست مخالفین ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس معاملے میں چین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کریں۔

ترکی میں موجود ایغور مسلمانوں کو چین بدر کیے جانے کا خوف
انقرہ : چین میں استحصال کی شکار ا یغور مسلم برادری عرصہ دراز سے ترکی میں پناہ حاصل کرتی آئی ہے لیکن اب یہ صورتحال تبد یل ہونے کو ہے۔ اگر ترک حکومت چین کیساتھ حوالگی کے ا یک معاہدے کو حتمی شکل د یتی ہے، تو ترکی میں مقیم ا یغور پناہ گز ین بھی خطرہ میں گھر جائیں گے۔