الیکشن کمیشن سے پارٹی کے نام کی تبدیلی پر تلنگانہ کے خاصی تعداد والے گجرات کے تین اسمبلی حلقوں پر توجہ
حیدرآباد ۔ 5 نومبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ امکان ہیکہ گجرات میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں تین اسمبلی حلقوں سورت، نوسری اور چوریاسی سے امیدواروں کو انتخابی مقابلہ میں اتارتے ہوئے قسمت آزمائی کریں گے جبکہ انہیں توقع ہیکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ایک ہفتہ یا دس دن کے اندر ٹی آر ایس کو بی آر ایس کا نام دیتے ہوئے احکام جاری کئے جائیں گے۔ ٹی آر ایس کے حلقوں کا کہنا ہیکہ پارٹی کو توقع ہیکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے پارٹی کے نام کی تبدیلی سے متعلق جلد ہی احکام جاری کئے جائیں گے۔ یہ احکام جاری ہوگئے تو بی آر ایس کا دوسری ریاستوں میں پھیلنا شروع ہوجائے گا۔ اس کی شروعات کرنے میں بی آر ایس پارٹی گجرات کے تین اسمبلی حلقوں میں اس کی قسمت آزمائی کرے گی جہاں تلنگانہ کے لوگوں کی ایک قابل لحاظ آبادی ہے جو وہاں بس گئے تھے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ریکارڈس میں ٹی آر ایس کا نام تبدیل ہوکر بی آر ایس ہوجانے پر کے سی آر ایک ٹیم کو گجرات روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیںتاکہ گجرات کے تین اسمبلی حلقوں میں آبادی کا جائزہ لینے اسٹڈی کرتے ہوئے انہیں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ پیش کی جائے چونکہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر لوگ گجرات کے ان تین حلقوں میں رہتے ہیں۔ اس لئے ٹی آر ایس قیادت بی آر ایس کی جانب سے انتخابی مقابلہ کرنے میں دلچسپی رکھنے والے قائدین سے بات کرتے ہوئے ابتدائی کام کررہی ہے۔ ایک سینئر ایم ایل اے نے کہاکہ کے سی آر کرناٹک، اترپردیش، گجرات، مہاراشٹرا اور بہار پر توجہ مرکوز کررہے ہیں جہاں سے وہ آئندہ عام انتخابات میں لوک سبھا نشستوں پر مقابلہ کیلئے اپنے امیدوار میدان میں اتار سکتے ہیں۔ سمجھا جاتاہیکہ انہوں نے پارٹی کے سینئر قائدین کو بتایا ہیکہ بی آر ایس ملک بھر میں لوک سبھا کی 50 سے زائد نشستوں پر مقابلہ کرے گی۔ ٹی آر ایس ذرائع نے کہاکہ ٹی آر ایس کے بی آر ایس بن جاتے ہی چیف منسٹر ایک ایگزیکیٹیو کمیٹی اجلاس منعقد کریں گے جس میں وہ نئی پارٹی کے ایجنڈہ کے بارے میں بتائیں گے۔