کے سی آر ایک کھوٹا سکّہ ،کے ٹی آر پاگل شخص : ریونت ریڈی

   

کشن ریڈی ریاست کی ترقی میں رکاوٹ، ایم ایل سی امیدواروں میں سماجی انصاف،تلنگانہ کیلئے 99 مرتبہ دہلی جانے تیار رہنے کا ادعا
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مرکزی حکومت سے فنڈس کے حصول کے لئے کل جماعتی اجلاس میں مرکزی وزیر کشن ریڈی کی عدم شرکت پر سخت تنقید کی۔ اسمبلی کے احاطہ میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ مرکز سے پراجکٹس اور فنڈس کے حصول کے معاملہ میں کشن ریڈی اپنے دوست کے سی آر کی ناراضگی سے بچنے کے لئے ریاستی حکومت سے تعاون سے گریز کررہے ہیں۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ مرکزی وزیر منوہر لال کھٹر کی حیدرآباد آمد کی کیا کشن ریڈی کو اطلاع نہیں تھی؟ حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر سے نمائندگی کے موقع پر بھی کشن ریڈی غیر حاضر رہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کے لئے ریجنل رنگ روڈ کا وعدہ کیا تھا اور حکومت وعدہ کی تکمیل کا مطالبہ کررہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد میں میٹرو ریل دراصل آنجہانی جئے پال ریڈی کا کارنامہ ہے جوکہ دکھائی دے رہی ہے لیکن کشن ریڈی نے میٹرو ریل پراجکٹ جو حاصل کیا ہے وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ صنعتوں کے قیام کے سلسلہ میں حصول اراضی میں ارکان پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر اور ڈاکٹر لکشمن پر رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ بی جے پی قائدین تلنگانہ کے پراجکٹس کی راہ میں حائل ہورہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے لئے کشن ریڈی مرکز سے فنڈس حاصل کرتے ہیں تو اُنھیں تہنیت پیش کی جائے گی۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ سابرمتی، یمنا اور گنگا ندی کی ترقی کے لئے مرکز کی جانب سے فنڈس جاری کئے جارہے ہیں لیکن موسی ندی پراجکٹ کے لئے فنڈس کی اجرائی سے انکار کیوں؟ دورۂ دہلی پر اپوزیشن کی تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ وہ 39 مرتبہ نہیں بلکہ 99 مرتبہ دہلی جانے کے لئے تیار ہیں۔ ہر دورۂ دہلی کے موقع پر میں نے تلنگانہ کے لئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی۔ مرکزی وزراء سے تلنگانہ کے کئی معاملات کی یکسوئی کی گئی۔ کونسل کے امیدواروں میں سماجی انصاف کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ طبقاتی سروے کے اثر کے تحت تمام پارٹیوں نے بی سی طبقہ کے قائدین کو امیدوار بنایا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ میں ریاست کا چیف منسٹر ہوں، کے سی آر کو میں نے شکست دی اور اُنھیں صفر بنادیا۔ چیف منسٹر نے ریمارک کیاکہ کے سی آر تلنگانہ کے لئے کھوٹا سکّہ بن چکے ہیں اور کے ٹی آر کو وہ ایک پاگل شخص تصور کرتے ہیں لہذا اُن کی باتوں پر کوئی توجہ دینا نہیں چاہتے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ کے سی آر کی طاقت اور کے ٹی آر کے مقام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ باپ بیٹے کے پاس سوائے غرور اور تکبر کے کچھ نہیں ہے۔ اسمبلی میں برسر اقتدار پارٹی سے زیادہ اپوزیشن کو موقع دیا جارہا ہے تاکہ عوامی مسائل کو پیش کرنے کا موقع ملے۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ اپوزیشن کے بغیر اسمبلی چلانے پر یقین نہیں رکھتے۔ کانگریس نے برسر اقتدار آتے ہی دھرنا چوک کو عوام کے لئے کھول دیا جبکہ بی آر ایس نے احتجاج پر پابندی عائد کردی تھی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے صرف تنقیدوں کے بجائے اگر تعمیری تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو حکومت اِسے قبول کرے گی۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ ایس ایل بی سی سرنگ میں بچاؤ کام جلد ہی مکمل کرلئے جائیں گے۔ اسمبلی اجلاس سے کے سی آر کی دوری پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ تنخواہ حاصل کرتے ہوئے کام نہ کرنے والے شخص کا نام کے سی آر ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی کے اُمور میں فیصلہ کا اختیار پارٹی صدر کو ہوتا ہے اور کونسل کے امیدواروں کے انتخاب میں ہائی کمان کا فیصلہ قطعی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ 10 برسوں میں کے سی آر نے سوائے قرض حاصل کرنے کے کچھ نہیں کیا۔ اسمبلی میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کے سی آر کے قرض اور دیگر غلط فیصلوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے واضح کیاکہ تلنگانہ کا بجٹ حقائق پر مبنی رہے گا اور بجٹ کے اعتبار سے پراجکٹس کا انتخاب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ مرکز کی جانب سے ریاست کو جو بھی فنڈس جاری کئے گئے ہیں اُس کی تفصیلات عوام میں پیش کی جائیں گی۔ 1