اراضیات سے محروم کرنے کی سازش، کانگریس قائدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/20جولائی، ( سیاست نیوز)کانگریس پارٹی کے قبائیلی طبقہ کے قائدین نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر حکومت قبائیلی عوام اور کسانوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔ برسوں سے زیر کاشت جنگلاتی اراضیات کو قبائیلیوں سے چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی ایس سی سل کے صدر نشین جگن نائیک اور کانگریس ایس ٹی سیل کے قومی نائب صدر نشین بلیا نائیک نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے ایک سینٹ زمین بھی قبائیلیوں میں تقسیم نہیں کی جبکہ قبائیلیوں کو فی خاندان 2 اراضی تقسیم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آتے ہی کے سی آر انتخابی وعدوں کو فراموش کردیا ہے۔ جگن نائیک نے قبائیلیوں کے مظالم کے سلسلہ میں حکومت کو خبردار کیا اور کہا کہ وہ دن دور نہیں جب عوام کے سی آر حکومت کو بیدخل کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قائیلیوں کی اراضی کے قریب آتی ہے تو اسے خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ بلیا نائیک نے اتر پردیش حکومت میں پرینکا گاندھی کی گرفتاری کی مذمت کی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اراضیات کے مسئلہ پر اسمبلی میں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ عہدیدار چیف منسٹر کو جنگلاتی اراضی کے بارے میں گمراہ کن رپورٹ پیش کررہے ہیں اور چیف منسٹر اسی پر انحصار کرتے ہوئے قبائلییوں کو ان کے جائز حق سے محروم کررہے ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر کو چیلنج کیا کہ قبائیلیوں کے مسائل پر مباحث کیلئے تیار ہوں اور کانگریس کے قبائیلی قائدین کے سوالات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف جنگلاتی اراضی صنعتوں کے قیام کیلئے حوالے کی جارہی ہے تو دوسری طرف قبائیلیوں کو جنگلاتی اراضی پر کاشت کی اجازت نہیں ہے۔
