حیدرآباد۔/3 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس رکن کونسل جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کو کھاد، تخم اور دیگر ضروری اشیاء کی کسانوں کو سربراہی میں ناکام ہوچکی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ ریاست کے مختلف حصوں میں کسان سڑکوں پر احتجاج پر اُتر آئے لیکن حکومت خواب غفلت کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زرعی شعبہ اور کسانوں کی بھلائی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ چیف منسٹر ہمیشہ کسانوں کی بھلائی کے زبانی دعوے کرتے ہیں لیکن عملاً اقدامات ندارد ہیں۔ کسانوں سے قرض معافی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آج تک اس سلسلہ میں بینکرس کے ساتھ حکومت نے کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر سے سوال کیا کہ کھاد اور بیج کیلئے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے کیا کسان نہیں ہیں، کیا یہ کسان حکومت کو دکھائی نہیں دیتے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ اگر کسانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا جاتا رہا تو ان کی برہمی احتجاج میں شدت کا سبب بنے گی۔ جیون ریڈی نے 10 ہزار میٹرک ٹن یوریا کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ اقتدار کیلئے چیف منسٹر نے رعیتو بیمہ اور رعیتو بندھو اسکیمات کی کافی تشہیر کی لیکن اقتدار ملتے ہی وعدوں کو فراموش کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی دنیا بھر میں تشہیرکی جارہی ہے لیکن آج تک پراجکٹ سے کسی بھی علاقہ کو فائدہ نہیں ہوا جبکہ ہزاروں کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ جیون ریڈی نے کہا کہ پراجکٹ کے بارے میں حکومت میں دوراندیشی کی کمی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کمیشن کے حصول کیلئے پراجکٹ کی تعمیر عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی آبپاشی پراجکٹوں میں بے قاعدگیوں کو بے نقاب کرے گی۔
