کے سی آر نے بی جے پی کو آئینہ دکھایا

   

Ferty9 Clinic

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راو نے آج مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ریاست کا چیف منسٹر خود مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کے راستہ کو اختیار کرے اور دھرنا منظم کرے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ کے چندر شیکھر راو نے بی جے پی کے گرد ہی ساری سیاست مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے آج دھرنا سے اپنے خطاب کے دوران مرکزی حکومت پر سخت ترین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ کے سی آر کا کہنا تھا کہ جب کبھی انتخابات آتے ہیں مرکز کی جانب سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کی جاتی ہے ۔ ہندو ۔ مسلم خلیج کو بڑھاوا دیا جاتا ہے ۔ سرحدات پر ڈرامے کئے جاتے ہیں اور سرجیکل اسٹرائیک وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ سارا کچھ چیف منسٹر نے کہا ہے اور ایک طرح سے ان الزامات کے ذریعہ انہوں نے بی جے پی اور مرکزی حکومت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ گذشتہ سات برسوں میں ہمیشہ ہی اہم ترین مسائل پر مرکزی حکومت کی راست یا بالواسطہ تائید کرنے والے کے چندر شیکھر راؤ نے اب بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کا آغاز کیا ہے ۔ انہوں نے آم مرکزی حکومت کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں ان سے سارا ملک واقف ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب کبھی انتخابات کا وقت آتا ہے ملک کے ماحول کو پراگندہ کیا جاتا ہے ۔ فرقہ وارانہ منافرت پھیلائی جاتی ہے ۔ سماج کے دو بڑے طبقات کوا یک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے ۔ اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ بسا اوقات کو فرقہ وارانہ تشدد بھی برپا کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بی جے پی کیلئے فرقہ وارانہ کشیدگی اور منافرت انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کا منفرد اور آزمودہ نسخہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ملک میں امن و قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ مانگنے کی جراء ت بی جے پی میںنظر نہیں آتی اسی لئے اس کے قائدین کی جانب سے مختلف گوشوں کو متحرک کرتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت پھیلائی جاتی ہے ۔
جس طرح چندر شیکھر راو نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر ہی بی جے پی ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپنے لگتی ہے ۔ پاکستان کے خلاف بیان بازیاںشدت اختیار کرجاتی ہیں۔ دہلی میں ہوئے اسمبلی انتخابات سے قبل باضابطہ فساد بھڑکایا گیا تھا ۔ بی جے پی کے قائدین انتہائی ناشائستہ اور اشتعال انگیز بیانات جاری کر رہے تھے ۔ پارٹی کے کم رتبہ والے قائدین فسادیوں کے ساتھ گھوم پھر کر انہیںاشتعال دلا رہے تھے ۔ انہیں بھڑکا رہے تھے ۔ ویڈیوز بنا کر پھیلائی جا رہی تھیں۔ سارا کچھ کرنے کے باوجود دہلی کے عوام نے بی جے پی کو مسترد کردیا ۔ اسی طرح بنگال میںانتخابات سے تقریبا دو سال قبل سے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ماحول کو ہر موقع پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی گئی ۔ معمولی باتوں پر مسائل پیدا کئے گئے ۔ اس کے باوجود بی جے پی کو وہاں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ اب جبکہ ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن میںاترپردیش بھی شامل ہے بی جے پی کی جانب سے ایک بار پھر ماحول کو پراگندہ کرنے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ چند ر شیکھر راو نے بی جے پی کو آئینہ دکھاتے ہوئے اس کے سارے کاموں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاہم یہ حققیت ہے کہ سارا ملک اس سے واقف ہے ۔ چندر شیکھر راؤ کی بی جے پی کے خلاف بیان بازیاں خود اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے جس کا وہ اہم مواقع پر ساتھ دیتے رہے ہیں۔
کے سی آر کی سیاست اور ان کی حکمت عملی کچھ بھی رہی ہو لیکن انہوں نے بی جے پی کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ سرحدات پر ماحول کو خراب کرنے یا پاکستان کے خلاف بیان بازیاں کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی سے بی جے پی کو سیاسی اور انتخابی فائدہ تو ہوسکتا ہے لیکن ملک کی ترقی اور بہتری میں اس کا کوئی رول نہیں ہوسکتا ۔ الٹا نفرت کا ماحول شدت اختیار کرسکتا ہے جس کے نتیجہ میں ملک میں نقص امن کے اندیشے لاحق رہتے ہیں۔ بی جے پی کو حکمرانی کا لالچ اتنا زیادہ ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے تاہم اس کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔