کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم پر خاموشی اختیار کی گئی ۔ آبپاشی پراجیکٹس پر اسمبلی میں مباحث کا اعلان ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 4 فروری(سیاست نیوز) ریاستی آبی ذخائر و آبپاشی پراجکٹ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار سابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ہیں جنہوں نے اپنے غرور اور تکبر سے ریاست کے پانی کی تقسیم میں تلنگانہ کو 10 سال میں نقصان پہنچایا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کے سی آر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ریاست کے آبی پراجکٹس کو نقصان پہنچانے وہ اورسابق وزیر آبپاشی ہریش راؤ ذمہ دار ہیں۔ چیف منسٹر نے کے سی آر کو اسمبلی اجلاس میں شرکت کا چیالنج کیا اور کہا کہ وہ آبپاشی پراجکٹس پر حکومت سے جاری وائٹ پیپر پر مباحث کیلئے ایوان میں موجود رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر دو روز تک ایوان میں مباحث کیلئے تیار ہے اور سابق چیف منسٹر اپنے فرزند کے ٹی راما راؤ‘ بھانجے ہریش راؤ و دختر کویتا کے ساتھ مباحث میں حصہ لیں ان کے مائک کو بند نہیں کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مرکزی حکومت کے آبپاشی پراجکٹس پر رویہ پر کے سی آر نے خاموشی اختیار کرکے کرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ کو مرکز کے پاس گروی رکھوا دیا۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ کے سی آر نے 10سالہ اقتدار میں ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ کانگریس اقتدار حاصل کرنے کے بعد ریاست کے مفادات کے تحفظ کی کوشش کر رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ کرشنا کے پانی کی تقسیم کے معاملہ میں جب قانون سازی کی گئی اس وقت کے سی آر لوک سبھا میں تھے اور کے کیشو راؤ راجیہ سبھا میں تھے اور اس وقت کی ٹی آر ایس نے اس قانون سازی کی تائید کرکے مفادات کو نقصان پہنچایا ۔ اقتدار حاصل ہونے پر بھی خاموشی اختیار کی گئی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کرشنا اور گوداری پراجکٹس میں اب تک جو نقصان ہوئے ہیں ان کی پابجائی کیلئے مرکز سے نمائندگی کی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ تلنگانہ کو درکار پانی کے حصول کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے اپنے اقتدار میں تلنگانہ مفادات کے تحفظ کی بجائے مرکز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے تھے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ اب حقائق منظر عام پر آنے لگے ہیں اسی لئے وہ انہیں آبپاشی پراجکٹس پر وائیٹ پیپر پر مباحث میں حصہ لینے کا چیالنج کرتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ میں پیر میں درد یا کسی اور شکایت کے ساتھ ایوان میں حاضر ہونے سے گریز نہ کریں کیونکہ حکومت انہیں بغیر مائک بند کئے پورا موقع دینے تیار ہے۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ قوانین کے اعتبار سے تلنگانہ کو کرشنا ندی سے 68 فیصد پانی ملنا چاہئے جو کہ ریاست کا حق ہے لیکن بی آر ایس حکومت اوراس کے وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے 299 ٹی ایم سی پانی پر اکتفاء کرنے دستخط کئے جبکہ 500 ٹی ایم سی پانی تلنگانہ کو حاصل ہوسکتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزکی جانب سے 10 برسوں میںکرشنا اور گوداوری کے پانی کی تقسیم پر متعدد اجلاسوں میں سابق چیف منسٹر نے غرور و تکبر کے سبب شرکت نہیں کی اور جب مرکز نے فیصلہ کیا تو جھوٹا پروپگنڈہ کرکے تلنگانہ میں برسراقتدار کانگریس کو بدنام کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی آر ایس سربراہ نے آندھراپردیش اور تلنگانہ کے مابین پانی کی تقسیم کے معاملہ میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی سے 6گھنٹے بات چیت کے بعد پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق حکومت نے 2023-24 بجٹ کی تفصیلات میں انکشاف کیا کہ ریاستی حکومت نے کرشنا اور گوداوری کو مرکز کے حوالہ کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جس وقت 299 ٹی ایم سی پانی پر اکتفاء کا فیصلہ کیا گیا اس وقت چیف منسٹر کے سی آر تھے اور وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ تھے اس کے علاوہ اس فائل پر اس وقت کے سیکریٹری آبپاشی ایس کے جوشی کے دستخط بھی ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کے بجائے بی آر ایس حکومت کی جانب سے ان پراجکٹس کے ذریعہ کروڑہا روپئے کی بدعنوانیاں کی گئی ہیں اور کالیشورم کے نام پر لاکھوں کروڑ خرچ کئے جاچکے ہیں۔ انہو ں نے اسمبلی کے مجوزہ بجٹ اجلاس میں آبپاشی پراجکٹس پر مباحث کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت سے وائٹ پیپر پیش کیا جائے گا اور مباحث کئے جائیں گے ۔چیف منسٹر نے پالمور رنگاریڈی پراجکٹ پر 10 سال میں کوئی کام نہ ہونے کا تذکرہ کیا اور کہا کہ سابق حکومت نے آبپاشی پراجکٹس کو نظرانداز کیا اسی طرح نلگنڈہ میں ایس ایل بی سی پراجکٹ پر بھی 10 سال کے دوران کوئی کام انجام دنہیں دیا گیا۔اس موقع پر ریاستی وزراء اتم کمار ریڈی اور کونڈا سریکھا بھی موجود تھے ۔ 3