کے سی آر نے مسلمانوں کو مایوس کیا، خوف و دہشت پیدا کرنے کا الزام

   

12 فیصد مسلم تحفظات نظرانداز، 6 مساجد شہید، قرض فراہم نہیں کیا گیا : محمد علی شبیر

حیدرآباد ۔ 30 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئرقائد و سابق وزیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر پر مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کرتے ہوئے ان سے کئے گئے وعدوں سے توجہ ہٹانے کا الزام عائد کیا۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے میں ناکام ہوجانے مسلم نوجوانوں کو قرض فراہم کرنے اور ملازمتوں کی فراہمی کے تعلق سے کوئی اعلان نہ کرنے کی سخت مذمت کی۔ سابق قائد مقننہ کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے جمعہ کو ایل بی اسٹیڈیم میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس پر سارے مسلمانوں کی نظریں تھیں۔ سارے مسلمان یہ سوچ رہے تھے کہ چیف منسٹر ان کے لئے کوئی خوشخبری سنائیں گے مگر چیف منسٹر نے سارے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے۔ وعدے کے مطابق 12 فیصد مسلم تحفظات، مسلم نوجوانوں کو ملازمتیں اور قرض کی فراہمی، مکانات کی سہولتیں، فیس ریمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کی اجرائی کے علاوہ اقلیتوں سے متعلق تمام مخلوعہ بورڈ اور کارپوریشن کی نامزدگی کے تعلق سے کوئی اعلان کرنے کی توقع کی جارہی تھی مگر چیف منسٹر نے ان سب کو نظرانداز کردیا۔ جھوٹے اعلانات کرتے ہوئے مسلمانوں میں ڈروخوف پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ گذشتہ انتخابات میں مسلمانوں نے کے سی آر کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں ووٹ دیا تھا لیکن ان انتخابی وعدوں کو عملی جامہ نہ پہناتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 400 سال سے شہر حیدرآباد میں امن و امان قائم ہے۔ کے سی آر کے پیدا ہونے سے پہلے حیدرآباد میں گنگاجمنی تہذیب ہے۔ چند ایک فرقہ وارانہ فسادات کے علاوہ حیدرآباد میں مکمل طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ریاست پر حکمرانی کرنے والے تمام 16 چیف منسٹرس نے افطار پارٹی کا اہتمام کیا ہے۔ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو سال 2015-16ء میں پہلی اور آخری مرتبہ قرض کیلئے 1.53 لاکھ درخواستیں وصول ہوئی تھیں ان درخواستوں کو منظور نہ کرنے کی وجہ سے ٹی آر ایس کے دورحکومت میں مسلم نوجوانوں کو ایک روپیہ قرض بھی حاصل نہیں ہوا۔ 2014ء میں پہلی افطار پارٹی میں چیف منسٹر کے سی آر نے آئندہ سال (2015) تک 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے 12 فیصد مسلم تحفظات کو فراموش کردینے کا الزام عائد کیا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کی طرف ٹی آر ایس حکومت کے جھکاؤ کے بعد ریاست میں 6 مساجد کا انہدام کیا گیا۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں مسلمانوں کی نمائندگی ختم کردی گئی۔ اقلیتی اسکیمات کیلئے فنڈز روک دیئے گئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس کے دورحکومت 2014ء تا 2022ء تک ایک اسٹیٹ رپورٹ بہت جلد جاری کرے گی۔ اس رپورٹ میں اقلیتی فلاح و بہبود کیلئے کئے گئے اقدامات کو اعدادوشمار کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ن