کے سی آر پر تلنگانہ کے آبپاشی پراجکٹس کو تباہ کرنیکا الزام: اتم کمار ریڈی

   

حیدرآباد۔4۔فروری(سیاست نیوز) کے سی آ رنے رائیلسیما لفٹ ایریگیشن پراجکٹ کے اجلاسو ںمیں شرکت نہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے آبپاشی ذرائع کو تباہ کردیا ہے اور محض 2 ٹی ایم سی پانی کے لئے کالیشورم پراجکٹ کے نام پر 95 ہزار کرو ڑ خرچ کئے گئے اور کالیشورم پراجکٹ بھی مخدوش پراجکٹ ثابت ہونے لگا ہے۔ ریاستی وزیر آبپاشی کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہو ںنے بتایا سابق حکومت نے کالیشورم پراجکٹ پر ہزاروں کروڑ خرچ کرتے ہوئے بھی اراضیات کو سیر آب نہیں کیا جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے طلب کردہ اجلاسوں میں شرکت کے ذریعہ کے سی آر تلنگانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو روک سکتے تھے ۔ کیپٹن این اتم کمار ریڈی نے کے سی آ ر پر الزام عائد کیا کہ انہو ںنے تلنگانہ کے پراجکٹ کو صحرا میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریاستی وزیر آبپاشی نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے کرشنا اور گوداوری پراجکٹس کو مرکزکے حوالہ کرتے ہوئے آندھراپردیش کے آبپاشی مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے پاس سابقہ حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی نظرانداز کرنے کی پالیسی کے تمام دستاویزات موجود ہیں جو یہ ثابت کر رہے ہیں کہ سابقہ حکومت نے جان بوجھ کر ان پراجکٹس سے آندھراپردیش کو پانی کی سربراہی کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے کے چندر شیکھر راؤ سے استفسار کیا کہ مسٹر کے سی آر اس وقت کہاں تھے جب ریاست میں اسمبلی انتخابات کے دن پڑوسی ریاست کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی تلنگانہ میں موجود ناگرجنا ساگر کے پانی پر پولیس کی مدد سے قبضہ کر رہے تھے !اتم کمار ریڈی نے سابقہ حکومت پر ریاست کے آبپاشی پراجکٹ کو تباہ کرنے کی سازش میں شامل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اس مسئلہ پر تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائے گی۔3