حیدرآباد ۔ 16 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز) : باغی اور آزاد امیدواروں کی جانب سے دستبرداری کے آخری دن ان کے پرچہ نامزدگی سے دستبرداری کے ساتھ چہارشنبہ کی شام تک مقابلہ کرنے والوں کے بارے میں بات صاف ہوگئی ہے صرف گجویل میں 70 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی سے دستبرداری اختیار کی اس کے بعد جملہ 44 لوگ میدان میں ہیں بشمول بی آر ایس سربراہ اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور بی جے پی کے ایٹالہ راجندر اور کانگریس کے ٹی نرسا ریڈی ، کاماریڈی میں 39 امیدوار بشمول کے سی آر ، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی اور بی جے پی کے ، کے وینکٹ رمنا ریڈی 19 امیدواروں کے مقابلہ سے دستبرداری کے بعد میدان میں ہیں ۔ میڑچل میں جہاں 67 پرچہ نامزدگی جانچ کے بعد درست قرار دئیے گئے تھے ان میں 45 امیدواروں نے ان کے پرچہ جات نامزدگی سے دستبرداری اختیار کی اس طرح اب 22 امیدوار میدان میں ہیں بشمول وزیر سی ایچ ملا ریڈی ۔ انتخابی مہم چلانے کے لیے چونکہ اب صرف 12 دن اور رائے دہی کے لیے 14 دن رہ گئے ہیں اس لیے امیدوار ، انتخابات کے شائد اس انتہائی اہم مرحلہ کے لیے شدت سے مہم چلا رہے ہیں ۔ اقتدار کے امید رکھنے والی تمام بڑی پارٹیاں اب شدت کے ساتھ اپنی مہم چلا رہی ہیں اور ٹیمس کو متحرک کردیا ہے ۔ وہ بوتھ سطح کے مینجمنٹ پر توجہ دے رہی ہیں کیوں کہ ہر ووٹ کو اہمیت کا حامل سمجھا جارہا ہے ۔ امیدوار پوری طرح مہم سرگرمیوں میں مصروف ہیں جب کہ دوسرے قائدین اور پارٹی کارکن دیہاتوں اور تانڈوں میں پہنچ کر ان کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے رائے دہندوں کو ترغیب دے رہے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس چناؤ میں زیادہ تر امیدواروں کی کامیابی کا مارجن 1000 اور 2000 ووٹ کے درمیان ہونے کا امکان ہے ۔ بی آر ایس نے ہر اسمبلی حلقہ میں وار رومس قائم کئے ہیں اور حکومت کی اسکیمات اور چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے استفادہ کنندگان کے بارے میں بھی بتاتے ہوئے رائے دہندوں کو بی آر ایس کے حق میں ووٹ دینے کے لیے راغب کیا جارہا ہے ۔۔