کے سی آر کی خاندانی حکومت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت

   

9 ڈسمبر کو کانگریس حکومت کا حلف ، میڑچل میں روڈ شو و کارنر میٹنگ سے ریونت ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔16۔نومبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں زمینداروں کی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرکے عوامی حکومت قائم کرنا کانگریس کا بنیادی مقصد ہے ۔ گزشتہ 10 برسوں میں کے سی آر کی خاندانی حکمرانی سے تلنگانہ کی ترقی رک گئی اور پراجکٹس میں کرپشن عام ہوچکا ہے۔ ریونت ریڈی میڑچل حلقہ میں روڈ شو اور کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے میڑچل ، جواہر نگر اور دیگر علاقوں میں روڈ شو کے ذریعہ عوام سے ملاقات کی اور کانگریس کو کامیاب بنانے اپیل کی۔ انہوں نے کے سی آر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ علحدہ تلنگانہ کا عوام نے جو خواب دیکھا تھا وہ گزشتہ 10 برسوں میں چکنا چور ہوچکا ہے۔ نوجوانوں کو امید تھی کہ نئی ریاست میں روزگار ملیگا لیکن صرف کے سی آر خاندان کو عہدے ملے اور 10 برسوں میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ۔ میڑچل کے نمائندہ ریاستی وزیر ملا ریڈی کو علاقہ کی ترقی نظر انداز کرنے عوام سے مناسب سزا کی اپیل کرکے ریونت ریڈی نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں میڑچل عوام سے وعدے فراموش کردیئے گئے ۔ غریب اور غریب ہوگیا لیکن ملا ریڈی کی دولت میں اضافہ ہوا ۔ تالابوں اور جھیلوں کے اطراف اراضیات خرید کر ملا ریڈی نے تالابوں کو بند کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملا ریڈی نے اپنے حامیوں کو ٹکٹ فروخت کیا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ میں ایک لاکھ کروڑ کی بے قاعدگیوں کا الزام عائد کرکے ریونت ریڈی نے کہا کہ ناقص کاموں سے میڈی گڈہ بیاریج کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کے سی آر خاندانی حکمرانی کے خاتمہ کیلئے کانگریس کی تائید کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آتے ہی 6 ضمانتوں پر عمل ہوگا ۔ 6 ضمانتوں کے ذریعہ غریب اور متوسط طبقات کے اچھے دن واپس ہوں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ 500 روپئے میں گیس سلینڈر ، آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت ، پنشن ماہانہ 4000 روپئے اور خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے امداد دی جائے گی۔ آروگیہ شری کے تحت 10 لاکھ روپئے تک کا علاج مفت کیا جائے گا۔ لڑکی کی شادی پر ایک لاکھ روپئے اور ایک تولہ سونا بطور تحفہ دیا جائیگا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 9 ڈسمبر کو لال بہادر اسٹیڈیم میں کانگریس حکومت حلف لے گی اور پہلے کابینی اجلاس میں 6 ضمانتوں پر عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔