کے سی آر کی زبان میں ریونت ریڈی کے جواب پر اعتراض کیوں؟

   

Ferty9 Clinic

بی آر ایس سے رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کا سوال، چیف منسٹر پر تنقید کی مذمت
حیدرآباد ۔ 25۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی نے سابق وزیر ہریش راؤ کو مشورہ دیا کہ وہ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے پارٹی سربراہ کے سی آر کے بیانات کا جائزہ لیں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کرن کمار ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران اور پھر چیف منسٹر کی حیثیت سے مخالفین کے خلاف من مانی بیانات کی روایت شروع کی ہے۔ گزشتہ دنوں پارٹی عاملہ اجلاس کے بعد کے سی آر نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے چمڑی ادھیڑنے کی دھمکی دی۔ چیف منسٹر نے کوڑنگل کے جلسہ عام میں کے سی آر کا جواب دیا جس پر ہریش راؤ برہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی ضعیفی کی آڑ میں بی آر ایس قائدین اپوزیشن کو اصولوں اور اقدار کا درس دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے جس زبان کا استعمال کیا ، کانگریس پارٹی اسی زبان میں جواب دینے کا حق رکھتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 10 سال تک چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز رہنے کے بعد موجودہ چیف منسٹر کی چمڑی ادھیڑنے سے متعلق بیان دینا کہاں تک درست ہے۔ کے سی آر کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کے بیانات جاری کریں۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ ہریش راؤ اور کے ٹی آر کو دوسروں پر تنقید سے قبل پارٹی سربراہ کے بیانات کا جائزہ لینا چاہئے ۔ رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ آبی ناانصافی کے مسئلہ پر حکومت نے اسمبلی میں مباحث کا فیصلہ کیا ہے۔ بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو اسمبلی پہنچ کر مباحث میں حصہ لینا چاہئے ۔ گزشتہ دو برسوں سے کے سی آر نے اسمبلی میں عوامی مسائل پر اظہار خیال نہیں کیا۔ صرف پارٹی قائدین کے درمیان بیٹھ کر حکومت اور چیف منسٹر کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ دو سال بعد عوام کے درمیان آنے والے سابق چیف منسٹر کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ وہ عوامی مسائل پر خاموش کیوں ہیں۔ ریونت ریڈی نے2029 اسمبلی انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ کانگریس کی کامیابی کا چیلنج کیا ہے۔ کے سی آر کو یہ چیلنج قبول کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو بیان بازی کے وقت زبان پر لگام رکھنی چاہئے۔1