کے سی آر کی قومی پارٹی

   

Ferty9 Clinic


چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی علاقائی جماعت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو قومی جماعت میں تبدیل کرتے ہوئے بھارت راشٹرا سمیتی کردیا ہے ۔ انہوں نے قومی سیاست میں دھماکہ دار داخلہ کا ارادہ کرتے ہوئے دہلی میں پارٹی کے دفتر کا بھی افتتاح کردیا اور وہاں پارٹی پرچم بھی لہرایا گیا ۔ چندر شیکھر راؤ دہلی میںقیام کرتے ہوئے مختلف جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ وہ ابتداء سے قومی سطح پر بی جے پی کے خلاف کوئی محاذ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ ابتدائی کوششوں میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی تھی جس کے بعد کچھ وقت کیلئے انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ۔ تاہم پھر سے وہ اپنی پارٹی کو قومی جماعت میں تبدیل کرنے کے بعد سرگرم ہوگئے ہیں۔ انہیں فوری طور پر کرناٹک میں جنتادل ایس کے ایچ ڈی کمارا سوامی کی تائید مل گئی ہے ۔ وہ کمارا سوامی کو اپنی پارٹی کے مختلف پروگرامس میں مدعو بھی کرچکے ہیں اور کمارا سوامی نے یہ ارادہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں بھارت راشٹرا سمیتی کے ساتھ مل کر مقابلہ کریں گے ۔ اس طرح کے سی آر تلنگانہ کے باہر دوسری ریاست میں جہاں انتخابی مقابلہ کریں گے وہ کرناٹک نظر آتی ہے ۔ کرناٹک میں کے سی آر کیلئے پرکاش راج کی خدمات بھی دستیاب ہورہی ہیں۔ پرکاش راج ہندی اور تلگو فلموں کے جانے مانے چہرے ہیں۔ گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھی انہوں نے مقابلہ کیا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو پا ئے تھے ۔ اس بار وہ کرناٹک میں بھارت راشٹرا سمیتی کو متعارف کرواتے ہوئے اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی طرح سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے بھی دہلی میں چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سبھی قائدین کے ساتھ چندر شیکھر راؤ قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ بنانے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ محاذ کہا جا رہا ہے کہ نہ صرف بی جے پی بلکہ کانگریس مخالف محاذ بھی رہے گا اور یہ ملک کی سیاست میں تیسرا محاذ ہوسکتا ہے ۔ ابھی اس تعلق سے کھل کر کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے اور صرف در پردہ تبادلہ خیال اور مشاورتوں کا سلسلہ جاری ہے ۔
چندر شیکھر راؤ کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہے کہ وہ ہمیشہ کانگریس مخالف رہے ہیں۔ کانگریس کی مخالفت ہی میں انہوں نے کئی اہم اور حساس مسائل پر بی جے پی کی راست یا بالواسطہ طور پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ تائید کی ہے ۔ اب جبکہ بی جے پی نے انہیں ہی نشانہ بنانا شروع کیا ہے تو وہ سارے ملک میں بی جے پی کے خلاف محاذ آرائی کا دعوی کر رہے ہیں۔ تاہم ایک اصل اور بنیادی پہلو یہ ہے کہ بی جے پی کی مخالفت کے نام پر اپوزیشن کی صفوں میں انتشار نہ ہوجائے اور اپوزیشن کے ووٹ تقسیم نہ ہوجائیں ۔ اکثر و بیشتر جو جماعتیں بی جے پی کی مخالفت میں الیکشن لڑنے کا دعوی کرتی ہیں انہیں کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ ان جماعتوں کو بی جے پی ہی کی ایماء انتخابی میدان میں موقع ملنے لگا ہے ۔ گجرات میں جس طرح عام آدمی پارٹی اور دوسرے حواریوں نے بی جے پی کی کامیابی کے گراف کو بلند ترین سطح تک پہونچانے میںاپنا رول ادا کیا ہے اسی طرح دوسری ریاستوں کیلئے بھی حواریوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے ۔ جہاں عام آدمی پارٹی کی رسائی نہیںہوسکتی وہاںدوسری جماعتوں کو میدان میں اتارنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس بات پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کے سی آر کی پارٹی بھی بی جے پی کیلئے مخالفت کے نام پر فائدہ پہونچانے والی مشین نہ بن جائے ۔ تمام جماعتوں کا بنیادی مقصد سیاسی اعتبار سے یہی ہونا چاہئے کہ کسی طرح بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کیا جائے ۔
بی جے پی کی مخالفت کا جھانسہ دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کی راہ ہموار کرنا آج کل عام ہوگیا ہے ۔ ہر کوئی اس میدان میں اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے بے چین ہے ۔ ایسے میںچندر شیکھر راؤ نے ایک علاقائی جماعت کو قومی جماعت میں تبدیل کیا ہے تو انہیں بھی اس بات پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کہیں بی جے پی کیلئے فائدہ کا ذریعہ نہ جائیں۔ اپوزیشن کی صفوںمیں اتحاد کیلئے کسی بھی پارٹی کو اچھوت نہ سمجھا جائے ۔ تلنگانہ میں اپنے اقتدار کی حفاظت ضرور کی جائے لیکن قومی سطح پر مختلف مسائل ہوتے ہیں اس لئے اپوزیشن کی صفوں میںاتحاد کی بجائے انتشار پیدا کرنے کا سبب بننے سے گریز کیا جائے۔