7 بلارم پر کے ٹی آر اور ہریش راؤ گرفتار، بوئن پلی پولیس اسٹیشن کے باہر کانگریس ۔بی آر ایس کارکنوں میں تصادم
7 پولیس اسٹیشن کا احاطہ اور سڑک جنگ کے میدان میں تبدیل، ہجوم کو منتشر کرنے پولیس کا لاٹھی چارج
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں حکمراں جماعت کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان جاری سیاسی جنگ اور محاذ آرائی نے پرتشدد موڑ اختیار کرلیا ہے۔ ضلع سدی پیٹ کے گاؤں ایراولی میں واقع بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے فارم ہاؤز پر کانگریس پارٹی کی جانب سے دیئے گئے ’’ڈھول بجاؤ‘‘ احتجاج کے ا علان کے بعد سارا علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ کانگریس کے قائد نرسا ریڈی اور ضلع کانگریس صدر انکشا ریڈی کی قیادت میں کانگریس کارکنوں کی بہت بڑی تعداد کے سی آر کے فارم ہاؤز کی جانب بڑھی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلئے جگہ جگہ بیریگیڈز لگا رکھی تھی لیکن مشتعل کانگریس کارکنوں نے پولیس بیریگیڈز کو زبردستی ڈھکیل دیا اور فارم ہاؤز سے صرف آدھا کیلو میٹر کے فاصلہ پر پہنچ کر شدید نعرے بازی کی اور ڈھول بجاکر مظاہرہ کیا ۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید دھکم پیل اور ہاتھا پائی ہوئی جس میں کانگریس قائدین اور پولیس ملازمین معمولی طور پر زخمی بھی ہوئے ۔ دوسری جانب بی آر ایس کے کارکن بھی مارکوک کے مقام پر جمع ہوگئے اور کانگریس کے احتجاج کے خلاف جوابی مظاہرہ شروع کردیا جس سے ایراولی اور اطراف کے اضلاع میں صبح سے ہی کشیدگی پھیل گئی ۔ ایراولی فارم ہاؤز کے باہر جاری شدید ہنگامہ آرائی اور سلامتی خدشات اور کانگریس کارکنوں کے گھیراؤ کی خبر جیسے ہی قانون ساز اسمبلی پہنچی، بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ اور بی آر ایس کے کئی ارکان اسمبلی فوری ایراولی فارم ہاؤز کی جانب روانہ ہوگئے ۔ تاہم امن و امان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کے بھاری دستوں نے بی آر ایس قائدین کو بلارم کے پاس روک لیا جبکہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی گاڑیوں کو حکیم پیٹ کے مقام پر ناکہ بندی کر کے روکا گیا ۔ اس موقع پر بی آر ایس ارکان اور پولیس کے درمیان سخت بحث و تکرار ہوئی ۔ کے ٹی آر نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو اپنے موبائل فون پر ویڈیو دکھائی جس میں کانگریس کے کارکن فارم ہاؤز کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ انہوں نے پولیس سے استفسار کیا کہ کیا کانگریس کارکنوں کو کے سی آر کے گھر پر حملہ کرنے کی خصوصی چھوٹ دی گئی ہے جس پر پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے کے ٹی آر کو یقین دلایا کہ کے سی آر کے فارم ہاؤز کی سیکوریٹی کیلئے پولیس کی بھاری فورس کو تعینات کیا گیا ہے جس پر کے ٹی آر نے دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپ کی سیکوریٹی پر بالکل بھروسہ نہیں ہے۔ ہم اپنے قائد کے سی آر کی حفاظت خود کریں گے ۔ پولیس سے بحث و تکرار کے بعد کے ٹی آر ، ہریش راؤ اور پارٹی کے دوسرے ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل اپنی گاڑیوں سے اتر کر بلارم چوراہے سے ایراولی فارم ہاؤز کی جانب پیدل مارچ پر نکل پڑے۔ صورتحال کو قابو سے باہر ہوتے ہوئے دیکھ کر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کے ٹی آر ، ہریش راؤ اور دیگر قائدین کو زبردستی حراست میں لے لیا اور انہیں بوئن پلی اور جواہر نگر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی حراست اور ان ہیں بوئن پلی پولیس اسٹیشن لائے جانے کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی ۔ بی آر ایس کے ہزاروں کارکن بوئن پلی پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے ۔ اسی دوران کانگریس کارکنوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی جس سے صورتحال مزید سنسنی خیز اور بے قابو ہوگئی ہے۔ دونوں فریقین ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے ۔ نعرے بازی اچانک تشدد میں تبدیل ہوگئی ۔ پولیس اسٹیشن کے سامنے بی آر ایس اور کانگریس کے کارکنوں نے ایک دوسرے پر کرسیاں اور پتھر پھینکنا شروع کردیا جس سے پولیس اسٹیشن کا احاطہ اور سڑک جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگیا۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے لاٹھی چارج کرتے ہوئے دونوں متصادم گروپس کو منتشر کردیا ۔ اس جھڑپ کے بعد بی آر ایس قائدین اور کارکنوں نے قومی شاہراہ (NH-44) پر بیٹھ کر دھرنا دیا اور حکومت و پولیس کی کاررائی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی جس کے سبب نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی نقل و حرکت مکمل طورپر مفلوج ہوکر رہ گئی اور کئی کیلو میٹر تک گاڑیاں پھنس گئیں۔2/k/i