کے سی آر کے لوک سبھا حلقہ میدک سے مقابلہ کا امکان

   

قومی سیاست میں ٹی آر ایس سربراہ کی دلچسپی میں اضافہ ۔ اسمبلی کیلئے بھی مقابلہ کریں گے

حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی کی قومی سیاست میں بڑھتی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے پارٹی قائدین کا کہناہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ آئندہ انتخابات میں حلقہ پارلیمان میدک سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔چیف منسٹر کی قومی سیاست میں دلچسپی اور پارٹی کو وسعت کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ کے سی آر تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں گجویل سے مقابلہ کریں گے اور چند ماہ بعد پارلیمانی انتخابات میں حلقہ پارلیمان میدک سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چندرشیکھر راؤ نے سابق میں بھی حلقہ لوک سبھا میدک سے مقابلہ کیا تھا بعدازاں انہو ںنے اس نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا اور گجویل سے رکن اسمبلی برقرار رہتے ہوئے چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے ۔تشکیل تلنگانہ کے بعد پہلے انتخابات یعنی 2014 میں چندر شیکھر راؤ نے گجویل اسمبلی اور میدک پارلیمنٹ سے مقابلہ کیا تھا اس سے قبل بھی کے سی آر کریم نگر اور محبوب نگر پارلیمانی نشست سے لوک سبھا کیلئے منتخب ہوچکے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اگر ریاستی اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات وقت مقررہ پر منعقد کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ گجویل سے ڈسمبر 2023 میں مقابلہ کرسکتے ہیں اور اپریل 2024 عام انتخابات کے دوران میدک حلقہ پارلیمان سے مقابلہ کریں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر چیف منسٹر میدک سے مقابلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں رکن پارلیمنٹ میدک پربھاکر ریڈی کو رکن قانون ساز کونسل نامزد کیا جاسکتا ہے۔ قومی سیاست میں حصہ لینے کے لئے پارٹی قائدین کی جانب سے کے چندر شیکھر راؤ کو انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے راجیہ سبھا کا راستہ اختیا رکرنے کا بھی مشورہ دیا جا رہاہے لیکن وہ اس کے لئے آمادہ نہیں ہیں کیونکہ وہ سابق میں تین مرتبہ لوک سبھا کیلئے مقابلہ کرتے ہوئے کامیاب ہوچکے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے کئی قائدین چیف منسٹر کو اپنے حلقہ انتخاب سے مقابلہ کیلئے پیش کش کررہے ہیں ۔کے چندر شیکھر راؤ اگر مرکزی سیاست میں سرگرم ہونا چاہتے ہیں تو ان کے سیاسی صلاح کاروں کے مطابق انہیں تلنگانہ سے زیادہ دہلی میں سرگرم ہونا ہوگا اسی لئے وہ رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے قومی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بن سکتے ہیں ۔م