کے سی آر یو ٹرن چیف منسٹر ، ٹی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کردیں

   


محمد علی شبیرکا مشورہ ، مرکزی حکومت کے فیصلوں کی تائیدکا الزام
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کے سی آر کو تلنگانہ کے یو ٹرن چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کردیا جائے کیونکہ ٹی آر ایس حکومت مودی حکومت کی مخالف عوام پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے مرکز کے زرعی قوانین کی مخالفت کا ڈرامہ کرتے ہوئے کسانوںکے بھارت بند کی تائید کی تھی لیکن اچانک انہوں نے زرعی قوانین اور آیوشمان بھارت اسکیم کے سلسلہ میں یو ٹرن لے لیا ہے۔ دونوں کی مخالفت کے بعد کے سی آر مودی حکومت سے خوفزدہ ہوگئے اور اپنا موقف تبدیل کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ دونوں پارٹیوں کی پالیسیوں میں یکسانیت ہوچکی ہے ، لہذا ٹی آر ایس کو بی جے پی میں ضم کردیا جائے جو تلنگانہ عوام کیلئے نئے سال کا تحفہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس تلنگانہ میں بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کر رہی ہے۔ گزشتہ 6 برسوں میں نریندر مودی حکومت کے تمام فیصلوں کی کے سی آر نے تائید کی۔ نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور نیتی آیوگ کے مسئلہ پر مرکز کی تائید کی گئی۔ صدر جمہوریہ ، نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے نائب صدرنشین کے انتخاب کے موقع پر ٹی آر ایس نے بی جے پی کی تائید کی ۔ طلاق ثلاثہ ، کشمیر سے دفعہ 370 کی برخواستگی اور دیگر سیاسی فیصلوں کی کے سی آر نے تائید کی۔ حال ہی میں کے سی آر نے این آر سی کی تائید کی اور سی اے اے کی آج تک مخالفت نہیں کی ہے۔ زرعی بلز کی منظوری کے موقع پر رائے دہی سے غیر حاضر رہتے ہوئے ٹی آر ایس نے مخالفت کا ڈرامہ کیا لیکن اب تلنگانہ میں زرعی قوانین پر عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور کے سی آر کے کئی معاملات میں یکسانیت ہے۔ دونوں کو عوامی مسائل کی فکر نہیں اور نہ ہی انتخابی وعدوں پر عمل آوری سے دلچسپی ہے۔ دونوں حکومتیں مخالف اقلیت پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ مودی کی معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں ملک کی معیشت تباہ ہوگئی جبکہ کے سی آر کی دھرانی اور ایل آر ایس اسکیموں نے عوام کے لئے مشکلات پیدا کردیں۔