کے ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو کا اظہار تعزیت

   

پی مدھو ، شبنم ہاشمی ، ہرش مندر اور سارا میتھوز کا اظہار رنج
حیدرآباد۔8۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست کی وفات کی اطلاع کے ساتھ ہی دنیا بھر سے سرکردہ و اہم شخصیات کے تعزیتی پیامات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا اور جناب زاہد علی خان اور جناب عامر علی خان کے علاوہ ان کے فرزندان اور ادارہ ٔ سیاست سے تعزیت کے پیامات موصول ہونے لگ گئے ۔ سابق چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندر ا بابوٹائیڈو نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ جناب ظہیر الدین علی خان کے انتقال کی اطلاع پر صدمہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس اطلاع نے انہیں صدمہ میں مبتلاء کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جناب ظہیر الدین علی خان نے محض ایک صحافی کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں بنائی بلکہ انسان دوست شخصیت اور پسماندہ طبقات کی آواز بنتے ہوئے خود کو ان طبقات کی ترقی کے لئے وقف کردیا تھا۔ریاستی وزیر تلنگانہ مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اپنے تعزیتی پیام میں کہا کہ جناب ظہیر الدین علی خان کی اردو صحافت کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہو ںنے مرحوم کے ارکان خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔ سابق ریاستی وزیر آندھراپردیش مسٹر نارا لوکیش نے منیجنگ ایڈیٹر کے انتقال کو عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جناب ظہیر الدین علی خان کو ایک جہدکار صحافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ارباب اقتدار کو جوابدہ بنانے کے سبب تمام حلقوں میں معروف تھے۔ سابق رکن راجیہ سبھا مسٹر پی مدھو نے منیجنگ ایڈیٹر کے سانحہ ارتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ایک مخلص دوست سے محروم ہوگئے ہیں جو ہر پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کے لئے ہمیشہ مدد کیا کرتا تھا۔ممتازسماجی جہدکار محترمہ شبنم ہاشمی نے ظہیر الدین علی خان کے اچانک انتقال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس قبل از وقت صدمہ نے انہیں مایوس کردیا ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ ظہیر الدین علی خان صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جو کہ پس پردہ رہتے ہوئے ملک کے کئی اہم امور میں اپنی رائے رکھتے اور اسے منوانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جناب ہرش مندر نے کہا کہ ملک تحفظ دستور کے معاملہ میں اہم موڑ پر ہے اور ایسے میں ہندستان کو ظہیر الدین علی خان کی ضرورت تھی ۔ انہو ںنے اپنے تعزیتی پیام میں کہا وہ انسانی حقوق کی جدوجہد کے دوران ہر قدم پر ان کی کمی محسوس کریں گے۔ملک بھر کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بالخصو ص سماجی جہدکارو ںاور مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں نے جناب ظہیر الدین علی خان کے انتقال کو ان کے خاندان کے شخصی نقصان سے زیادہ ملی اور سماجی نقصان قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ظہیر الدین علی خان سیکولر قو توں کو متحد کرتے ہوئے مسلم رائے عامہ کو ہموار کرنے کے معاملہ میں کلیدی کردار ادا کیا کرتے تھے ۔ اظہار تعزیت کرنے والوں نے مغربی بنگال‘ کرناٹک‘ گجرات‘ جموں و کشمیر ‘ دہلی‘ اوڈیشہ ‘ آسام کے علاوہ اترپردیش ‘ جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں ان کی خاموش خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کے خلاف مظالم ہوتے وہ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان علاقوں میں مدد پہنچانے اور ان ریاستوں کے ذمہ داروں کو متحرک کرنے کے اقدامات کیا کرتے تھے ۔محترمہ سارہ میتھیوز نے ظہیر الدین علی خان کے انتقال پر گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک شخص کی رحلت نہیں بلکہ سماجی تنظیموں‘ اداروں ‘ جہدکاروں کے اتحاد اور ان کی کارکردگی کی موت ہے۔ماہر حساب مسٹر رام نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست کی موت کو ایک نسل کا نقصان قراردیتے ہوئے کہا کہ ظہیر الدین علی خان نے اپنی زندگی میں تین نسلوں کے لئے کام کیا اور اب آئندہ نسل ان کی رہبری سے محروم ہوگئی ۔